رام پور میں واقع جوہر یونیورسٹی کے 38 عمارتوں کے انہدام پر عبوری روک

مراد آباد:(ایجنسیز) اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ مراد آباد کے ڈویژنل کمشنر آنجنیہ کمار سنگھ نے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر اگلی سماعت تک عبوری روک لگا دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے کمشنر نے فی الحال انہدامی کارروائی معطل کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد یونیورسٹی کی عمارتوں پر بلڈوزر کارروائی روک دی گئی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے آر ڈی اے کے 15 جولائی کے حکم کے خلاف مراد آباد ڈویژنل کمشنر کی عدالت میں قانونی اپیل دائر کی تھی۔ پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران کمشنر نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک جمود برقرار رکھا جائے اور کسی قسم کی انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔واضح رہے کہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 15 جولائی کو محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے غیر قانونی بتایا تھا۔

اتھارٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو 20 دن کے اندر یہ عمارتیں خود منہدم کرنے کی ہدایت دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں انتظامیہ خود کارروائی کرے گی۔ آر ڈی اے کے فیصلے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ، جوہر ٹرسٹ، طلبہ اور ملازمین نے اس کی مخالفت شروع کر دی تھی۔ یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کا احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے۔ جوہر ٹرسٹ کا مؤقف ہے کہ آر ڈی اے نے دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کا مکمل جائزہ لیے بغیر انہدام کا حکم جاری کیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے 20 جولائی کو ڈویژنل کمشنر کی عدالت میں اپیل دائر کرنے کے ساتھ ساتھ الٰہ آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ دونوں مقدمات کی سماعت 28 جولائی کو مقرر تھی، تاہم مراد آباد کے سینئر وکیل آمود اگروال کے انتقال کے باعث عدالتی کارروائی متاثر ہونے کے امکان کے پیش نظر یونیورسٹی کی جانب سے پیر ہی کو جلد سماعت کی درخواست کی گئی۔

یونیورسٹی کے وکیل جنید اعجاز نے بتایا کہ ڈویژنل کمشنر کی عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد آر ڈی اے کے انہدامی حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ سماعت میں دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس معاملے میں مزید کارروائی اور حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اس عبوری حکم کے بعد فی الحال محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے خلاف کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی، جبکہ آئندہ سماعت میں مقدمے کی قانونی حیثیت اور آر ڈی اے کے حکم کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading