ناندیڑ، 25 جولائی:(ورق تازہ نیوز) ناندیڑ پولیس نے ضلع کے رام تیرتھ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع نرشی بس اسٹینڈ کے سامنے موجود آشیرواد لاج اور آنند لاج پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ جسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران سات متاثرہ خواتین کو بازیاب کرایا گیا جبکہ دس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن کی ہدایت پر مقامی جرائم شاخ کے تحت انسانی اسمگلنگ مخالف یونٹ (AHTU) نے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بلالی شام پانےگاؤںکر کی قیادت میں 25 جولائی کو یہ کارروائی انجام دی۔
پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ نرشی میں واقع آشیرواد لاج اور آنند لاج میں جسم فروشی کا غیر قانونی کاروبار چلایا جا رہا ہے اور لاج کا مالک پانڈورنگ شیورام شریراگیرے ریاست کے اندر اور باہر سے خواتین کو لا کر انہیں زبردستی جسم فروشی پر مجبور کر رہا ہے۔اطلاع کی تصدیق کے لیے پولیس نے دو سماجی کارکنوں کو فرضی گاہک بنا کر لاجز میں بھیجا۔ تصدیق ہونے کے بعد پولیس نے دونوں لاجز پر چھاپہ مارا اور موقع سے دس ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
گرفتار شدگان میں راہول یشونت کولٹے، وشومبھر ویاکانتی گاڈے، بالاجی آنند سوریہ ونشی، خاکی بابا شیواجی سوریہ ونشی، پانڈورنگ شیورام شریراگیرے (لاج مالک)، نرسنگھ باسنگھ ٹھاکر عرف پردیشی، پروین دتو وارنلوار، کرشنا بالاجی دیشپتوار، وینکٹ مادھو نارے اور وکی ونود اندورکر شامل ہیں۔کارروائی کے دوران ناندیڑ اور مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی سات متاثرہ خواتین کو بازیاب کرایا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق خواتین کو رقم کا لالچ دے کر اور مبینہ طور پر زبردستی جسم فروشی میں دھکیلا جا رہا تھا۔پولیس نے موقع سے جسم فروشی میں استعمال ہونے والا سامان، نقد رقم اور موبائل فون سمیت مجموعی طور پر 2 لاکھ 4 ہزار 80 روپے مالیت کا سامان ضبط کیا ہے۔
خاتون پولیس سب انسپکٹر اشونی گائیکواڑ کی شکایت پر رام تیرتھ پولیس اسٹیشن میں ملزمان کے خلاف غیر اخلاقی انسانی تجارت (انسداد) ایکٹ 1956 کی دفعات 3، 4، 5 اور 6 کے علاوہ بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعہ 143(2) کے تحت مقدمہ نمبر 153/2026 درج کر لیا گیا ہے۔یہ کارروائی پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن کی نگرانی میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ شام پانےگاؤںکر، اے ایچ ٹی یو، مقامی جرائم شاخ اور رام تیرتھ پولیس کی مشترکہ ٹیم نے انجام دی۔