ناندیڑ:اقلیتی طلباءکی عمدہ تعلیم و تربیت میں نوبل اردو اسکول کا اہم رول :ڈی پی ساونت

کسم سبھا گروہ میں طلباءنے صلاحیتوں کا کیا مظاہرہ،ڈراموں ،نعت اور گیتوں کے ذریعہ طلباءنے سامعین کو کیا محظوظ

ناندیڑ:23جنوری (ورق تازہ نیوز ) نوبل اردو پرائمری و ہائی اسکول انتظامیہ کی جانب سے کسم سبھاگرہ میں طلباءکا تہذیبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا۔اس پروگرام میںمہمان خصوصی کے طورپر ایم ایل اے ڈی پی ساونت اور کارپوریٹرعبدالعلیم خان نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر ایم ایل اے ڈی پی ساونت اور علیم خان سمیت ،سوسائٹی کے ذمہ داران ،اساتذہ کرام اور اسٹاف کی تہنیت کی گئی ۔ ایم ایل اے ڈی پی ساونت نے اپنے خطاب میں نوبل اردو پرائمری و ہائی اسکول کے ذمہ داروں اور اساتذہ کی ستائش کی ۔انھوں نے کہا کہ ناندیڑکے اقلیتی طلباءمیں تعلیمی رجحان کو بڑھانے اور طلباءکو عمدہ تعلیم و تربیت دینے میں نوبل اردو پرائمری وہائی اسکول اہم رول ادا کررہا ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ اسکول انتظامیہ نے اس پروگرام میں طلباءکی سماجی اور اخلاقی تربیت کوخاص ملحوظ رکھا۔یہی وجہ ہے کہ پروگرام کے آخر تک سامعین ،طلباءکے مظاہرے دیکھتے رہے ۔طلباءنے انوکھے اور معصومانہ انداز میں نعت ، گیت اور ڈراموں کے ذریعہ کوئی نہ کوئی پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔طلباءکے اس پروگرام کے انتظامات، اسکول کے انچارج عبدالقیوم خان اور سپروائزر ادریس احمد نے بحسن وخوبی انجام دیئے ۔پروگرام میں نوبل ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالماجد اور پرائمری کی صدر معلمہ صنوبر باجی بھی موجودتھیں۔پروگرام کی نظامت سید جاوید علی، زبیر احمداور محمد عمران نے انجام دیں۔نوبل اردو پرائمری و ہائی اسکول کے اس پروگرام کا جائزہ لینے کیلئے سوسائٹی کے صدر نعیم صدیقی،سکریٹری عبدالوحید،جوائنٹ سکریٹری شکیل احمد،سوسائٹی کے پیٹرن ایڈوکیٹ رحمن صدیقی بھی کسم سبھاگرہ پہنچے ۔پروگرام میںسرپرستوں اور رشتے داروں سمیت مشاہدین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔

پروگرام کو کامیاب بنانے میں اسکول کے ٹیچرس اور اسٹاف نے خوب جدوجہد کی۔ واضح رہے کہ نوبل اردو پرائمری و ہائی اسکول میںطلباءمیں تعلیمی رجحان کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت سے بھی روشناس کرایا جارہا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے کسم سبھا گروہ میں اسی نہج پر یہ پروگرام منعقد کیا۔جدید تعلیمی نظام کے تحت طلباءکی صلاحیتوں کے ارتقاءکیلئے اساتذہ اور اسکول انتظامیہ نے کافی محنت و مشقت کی ہے۔ خصوصاََ مقابلہ جاتی ماحول میں طلباءمیں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ فنون لطیفہ سے بھی واقفیت ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے ۔ایسے میں اسکولی سطح پرتعلیم کے ساتھ ساتھ تہذیبی و ثقافتی پروگراموں کا اہتمام ضروری مانا جارہا ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading