مولانا اسرارالحق قاسمی رح نے مختلف جہتوں سے ملت کی خدمت کی:مولانامحمدولی رحمانی
امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے مشہورعالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی رح کی رحلت پرگہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی رحلت سے مجھے ذاتی صدمہ پہونچاہے، مولانا سے دیرینہ روابط رہے، آپ کی خدمات کادائرہ وسیع ہے،آپ نے مختلف پلیٹ فارموں سے اورمختلف جہتوں سےاہم خدمات انجام دیں، نیز علاقے میں مکاتیب کی توسیع کی، ملت کے تئیں ہمدردی رکھنے والے، باصلاحیت، فکرمندعالم دین تھے،وہ بورڈکے بھی باوقار رکن تھے،سادگی آپ کا خاص وصف تھا، اللہ تعالٰی پسماندگان کوصبرجمیل دے، مولاناکے حسنات اورخدمات کوقبول فرمائے، آخرت کے لیے ذخیرہ بنادے، آمین
مولانا اسرارالحق قاسمی کا انتقال ملت کا عظیم نقصان:مفتی اسماعیل
مالیگاؤں(عامر ایوبی) کشن گنج کے ایم پی، دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن اور معروف سیاسی و ملی رہنما مولانا اسرارالحق قاسمی کا کل رات دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا. انا للہ…………. الخ
مولانا کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے پر رکن شوری دارالعلوم دیوبند اور رکن مجلس عاملہ و منتظمہ جمیعتہ علماء ہند مفتی محمد اسماعیل قاسمی (مالیگاؤں) نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے. موصوف نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہیکہ "ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک کے مسلمان نازک موڑ سے گزر رہے ہیں ملک و ملت کے خیر خواہ مولانا اسرارالحق قاسمی کا انتقال نہ صرف انکے اہالیان خانہ و متعلقین کیلئے دکھ بھرا ہے بلکہ یہ سانحہ ملت کا ایک عظیم نقصان ہے مولانا کی سیاسی، سماجی، تعلیمی اور دینی و ملی خدمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں” دعا ہیکہ اللہ پاک مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور اہالیان خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوئی ہے وہ جلد پر ہو. (آمین ثم آمین)
مشہور عالم دین،مصنف،صحافی،دانشور،سیاسی اور مذہبی قائد،جناب مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی اب اس دنیامیں نہیں رہے،کانوں کو یقین نہ آنے والی خبر ہے،رات ہی کو تو ان کاپوسٹ پڑھاکہ وہ دیگھل بینگ میں لوگوں سے مل رہے ہیں،اور اب ان کے انتقال کی خبر۔اناللہ واناالیہ راجعون
سادگی کے انتہائی پیکر،سب کچھ ہونے کے باوجود بھی وہی درویشانہ صفت،اپنے کام سے مطلب،ان کی شناخت تھی،وہ دارالعلوم دیوبند کی شوری کے رکن بھی تھے اورلوک سبھاکشن گنج کے ایم پی بھی،آل انڈیا دینی ملی تعلیمی فاونڈیشن کے صدر بھی تھے اور ملک میں ہزاروں اداروں کے سرپرستی بھی فرماتے تھے،کلکتہ میں،دہلی میں،کشنگنج میں وہ کئ اداروں کے کامیاب مہتمم تھے،وہ جمعیۃ علماءہند کے ایک زمانہ تک جنرل سکریٹری بھی رہے،ہندوستان کی تاریخ پر پران کی بڑی نگاہ تھی،ان کی عمر ستر پارکرگئ تھی:لیکن گرجتی ہوئ آواز تھی،وہ ایک عظیم خطیب بھی تھے،سیمانچل کو ان پر ناز تھا،مگر عمر نے وفانہ کی اور سیمانچل کو یتیم کرکے وہ اس دنیاسے چلے گئے۔
دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں ابھی دوسال پہلے میری ملاقات ہوئ،میں نے کہا:”حضرت دعاءکیجئے گا”فرمانے لگے:آپ کےلئے دعاءنہیں کریں گے تو کس کےلئے؟آپ تو لکھتے ہیں۔ہاں انہوں نے ایک بات کی ضرور تلقین کی کہ کچھ لکھنے والوں کی ایک ٹیم بنائیے۔اور ان کی رہنمائ کیجئے۔
وہ ہمارے لئے بہت ہی مشفق تھے،کئ بار انہوں نے دہلی جانے کی دعوت بھی بھی دی:لیکن نہیں جاسکا،ابھی 15,16دسمبر کو دہلی جاناتھااور ان سے خصوصی ملاقات بھی تھی مگرـ
ابھی بہت کچھ لکھناباقی ہے۔مگر ۔۔۔
جنازہ کی نماز نماز جمعہ کے بعد ان کے آبائ گاوں ٹپو میں ہے۔شرکت فرمائیں۔اور دعاء دعاءبھی کریں۔
خالدانور پورنوی
7دسمبر
مولانا اسرارالحق قاسمی کاانتقال؛ملک وملت کےلئے ایک عظیم خسارہ:مولانا محمدقاسم
(پٹنہ۔٧دسمبر )مشہور عالم دین،خطیب،دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن،اور ممبر آف پارلیامینٹ جناب مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی کے انتقال پرملال پر جمعیۃ علماءبہار کے صدرمحترم جناب مولانا محمدقاسم صاحب بانی جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ نے گہرے رنج وغم کااظہار کیاہے،انہوں نے دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ: ان کے انتقال پرملال سے ملک وملت کےلئے ایک عظیم خسارہ ہواہے،انہوں نے کہا:مولانا محترم سے ہمارے دیرینہ تعلقات تھے،اور جب بھی پٹنہ میں کسی پروگرام کاانعقادکیاتو مولانا قاسمی کو ہم نے ضرور مدعوکیا،واضح رہے کہ 1986میں دینی تعلیمی بورڈ کے کےاحیاءنوکے موقع پر جمعیۃ علماءہند کے سابق صدر وامیرالہند حضرت فدائے ملت مولانا سیداسعد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے جناب مولانا محمد قاسم صاحب ریاستی دینی تعلمیی بورڈ بہار وجھارکھنڈ کاصدرمنتخب فرمایاتھا،اس وقت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی،بھی اس پروگرام میں موجود تھے،اورآپ جمعیۃ علماءہند کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے صدرمحترم جناب مولانا محمدقاسم صاحب نے تمام مدارس ومکاتب کے اساتذہ اورذمہ داران سے گذارش کی ہے کہ مولانامرحوم کی مغفرت کےلئے دعاءفرمائیں۔جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ، معہدارشد کوروڈیہہ،میں بھی دعاءکااہتمام جاری ہے،جمعیۃ علماءبہار کے جنرل سکریٹری جناب مولانا محمدناظم صاحب قاسمی ناظم جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ نے بھی دکھ کااظہار کیاہے،انہوں نےکہاکہ مولاناقاسمی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے،وہ عظیم مذہبی قائد کے ساتھ سیاسی قائد او دانشور تھے۔اللہ تعالی نعم البدل عطاءفرمائے۔اوران کی کی مغفرت فرمائے۔آمین
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندہ درویش،گدڑی کے لعل،ولی کامل،خدا رسیدہ،عارف باللہ،ملی قاید،مذہبی رہنما،سیاسی لیڈر،مستند مورخ،معتبر صحافی،معروف عالم،بےمثال اہل قلم،ترجمان اسلام،عزم و عمل کے کوہ گراں،جرات و عزیمت کے پہاڑ،امن و آشتی کے پیامبر،تعلیم و تربیت کے داعی،مصلح سماج،اکابرین دیوبند کے منظور نظر،قاسمیت کے ترجمان،جمعیت کے پاسبان،جلسوں اور کانفرنسوں کی زینت،اسٹیج سے گرجنے،للکارنے اور جھنجھوڑنے والے ساحر اللسان خطیب،مکتب اور مدرسہ سے پارلیمنٹ تک کے مسافر،صبر و تحمل کے نمونہ،سادگی و متانت کے عکس جمیل،شفقت و محبت کی تصویر،مسلسل کام کرنے اور تھک تھک کر کرتے رہنے اور اپنی وفات کی رات یعنی آج شب بھی اپنے ادارہ دارالعلوم صفہ کے مہمانانِ رسول کو اصحاب صفہ کے نقش قدم پر کاربند رہنے کی آخری تلقین فرماکر،رات کو تین بجے تہجد کی تیاری کرتے ہوئے اپنے سارے اسفار کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہتےہوۓآخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔کون؟
پھر ایک بار دل چاہتا ہے کہ بولوں کہ
وہ جو بیک وقت قاسمی بھی،صاحب نسبت بھی،ایم پی بھی،رکن شوری دارالعلوم دیوبند بھی،مدارس و مکاتب کے منتظم بھی،عصری درس گاہوں کے بانی بھی،خطیب بھی،مورخ بھی،صحافی بھی،اہل قلم بھی یعنی مذہب و سیاست کا حسین سنگم ایک درنایاب تھے۔۔۔۔۔اور وہ جو ۔۔۔۔۔تاریخ پر تاریخ رقم کرنے والےایک انمول ہیرا تھے اورملت اسلامیہ کے فرد فرید اور دارالعلوم دیوبند کے فرزند ارجمند تھے وہ اب اس دنیاۓ دنی سے روٹھ گۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!آپ نے میری اتنی لمبی تحریر پڑھی
اس پوری تحریر سے آپ کے ذہن و دماغ پر خوبصورت سی جو تصویر مرتب ہو اس پہ لکھ دیجیۓ! حضرت مولانا أسرار الحق صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ۔
اے مرد دانا و بینا!
جا!تو نے پوری زندگی محنتوں اور کارناموں کی تاریخیں رقم کی۔اب اس بڑھاپے میں تو تھک چکا تھا،اب تجھے آرام کی ضرورت تھی۔رب العالمین نے جمعہ کی شب تیری موت مقدر کرکے قبر کے سوال و جواب سے تجھے ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا ہے اور روز محشر تک کے لیے تجھے آرام کی نیند سونے کا سنہرا موقع بخش دیا ہے۔
جمعیت علماء ارریہ اور اس کے جملہ خدام و اراکین آپ کی رحلت کو ملت اسلامیہ ہند کے لئے عظیم خسارہ تصور کرتے ہوئےحضرت والا کو ان کے عظیم کارناموں پر انہیں خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں،ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں،ان کی بال بال مغفرت کے لئے دعا گو ہیں اور تمام احباب سے ان کے ایصال ثواب کے اہتمام کی درخواست کرتے ہیں۔
اب ہم چلےاس درویش کے جنازے میں ہجوم عاشقاں چاک گریباں کا حصہ بننے!
حضرت کا ایک دیوانہ
محمد اطہر القاسمی
ارریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 07/12/2018
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
اخلاص کے چراغ اور بےلوث جدوجہد کی مجسم تصویر، حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی، سفر آخرت پر ایسے روانہ ہوئے ہیں کہ، یقین نہیں آتا ۔
آپ، ملت اسلامیہ ہندیہ کے ان عظیم قائدین میں سے تھے جن کی تعلیمی، سیاسی اور سماجی خدمات و سرگرمیاں بظاہر خاموش ہوا کرتی تھیں لیکن درحقیقت ان کے نتائج پُر اثر اور پر شور ہوا کرتےتھے، ان کی عظیم خدمات سے ایک نسل رہتی دنیا تک فائدہ اٹھائے گی، غمِ امت میں تڑپنے اور کڑھنے والے اور طعن و تشنیع کی برسات میں بھی قومی ترقیات کے لیے فکرمند اور جواں عزم رہنے والے اس قحط الرجالی کے دور میں خال خال ہی پائے جاتے ہیں، اور یہی دراصل اندھیروں کے چراغ ہوتےہیں، مولانا اسرار الحق صاحب ؒ کی وفات حسرت آیات ہے، ملت اسلامیہ ہندیہ کے درخشاں پہلوﺅں کی تاریخ آپکے بغیر نامکمل ہوگی_
ہماری دعا ہیکہ، رب عز و جل ان کی روح کو اپنے الطاف و انعام میں ڈھانپ لے، پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے اور ان کے کاز کو آگے بڑھانے کی ہمت عطا فرمائے ۔
حضرت مرحومؒ طبقۂ علما سے کیا چاہتےتھے؟ آج کے انقلاب میں اس بابت آپکا مضمون شائع ہوا ہے، دیکھ کر اور پڑھ کر عجیب سا احساس ہورہاہے کہ، آج ہی آپکا مضمون شائع ہوا، اور آج ہی چل بسے_ ہمیں چاہيے کہ طبقۂ علما سے مرحوم کی گذارشات کو عام کریں اور ان پر عمل پیرا ہوں، یہی ان کو حقیقی خراج عقیدت ہوگا۔
” آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے "
” سبزہء نورستان اس گھر کی نگہبانی کرے”
شریک غم:
MLA آصف شیخ رشید