امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔جنگ بندی کے قیام کے لیے ’آپریشن ایپک فیوری‘ روکنے کے تقریباً چھ ہفتے بعد بھی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ مزید حملوں کی منظوری دینے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم مذاکرات کو مزید وقت دینے کے لیے انھوں نے یہ فیصلہ مؤخر کر دیا۔
انھوں نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ یا تو ہم معاہدے تک پہنچ جائیں گے یا پھر ہمیں کچھ ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو قدرے ناخوشگوار ہوں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ہم اس عمل کو ایک موقع دے رہے ہیں۔ مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں زیادہ لوگوں کی ہلاکت کے بجائے کم جانی نقصان کو ترجیح دوں گا۔ صورتحال کسی بھی سمت جا سکتی ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کے ردعمل کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کرنے کے عندیے کے جواب میں کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے