پیپر لیک معاملے میں ناندیڑ کے کچھ مشتبہ افراد، والدین اور ایجنٹ اب سی بی آئی کے رڈار پر

ناندیڑ:20/مئی(ورق تازہ نیوز) ملک بھر میں سنسنی پھیلانے والے نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملے کی تحقیقات کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کی ایک ٹیم منگل کو دوسری بار ناندیڑ پہنچی ہے۔انتظامیہ کے ایک سینئر افسر کی جانب سے اس پیش رفت کی تصدیق کے بعد ضلع میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپر لیک کے ٹھوس سراغ ملنے کے بعد تفتیشی ایجنسی نے مراٹھواڑہ کا رخ کیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ناندیڑ کے کچھ مشتبہ افراد، والدین اور ایجنٹ اب سی بی آئی کے ریڈار پر ہیں۔اطلاعات کے مطابق شہر کے گاندھی نگر علاقے میں سی بی آئی کی ٹیم نے اپنا قیام قائم کیا ہے۔ پروفیسر موٹے گاؤںکر کے ساتھ بلالی کے رہنے والے وویک پاٹل کا براہِ راست رابطہ ہونے کی بھی بات سامنے آئی ہے۔
تحقیقات میں مزید شدت
نیٹ پیپر لیک کے پیچھے موجود ریکیٹ کا پردہ فاش کرنے کے لیے سی بی آئی نے اپنی کارروائی مزید تیز کر دی ہے۔ اس سے قبل 16 مئی کو سی بی آئی کی آٹھ رکنی ٹیم ناندیڑ آئی تھی۔ اس ٹیم نے شہر کے ودیوت نگر علاقے میں رہنے والی ادھینی پاٹل نامی خاتون سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پانچ لاکھ روپے دے کر نیٹ کا سوالیہ پرچہ خریدا گیا تھا۔ اسی اطلاع کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔

خاص بات یہ رہی کہ ٹیم نے اسی دن قیام کر کے اگلے دن بھی شہر کے ایک اور مقام پر جا کر تفتیش کی۔اس کارروائی کے بعد شہر میں اس معاملے کو لے کر کافی چرچا رہا، اور اب ایک بار پھر سی بی آئی ٹیم کی آمد سے تفتیش میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading