نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے میں 13 فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہیں لیکن حکومت ملک کے عوام کو اس کا فائدہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ کانگریس نے اس معاملہ میں مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔
کانگریس کے میڈیا سیل کے سربراہ رنديپ سنگھ سورجے والا نے بدھ کو ٹویٹ کیا کہ ’’گزشتہ سات دنوں کے اندر خام تیل کی قیمت 13.65 فیصد گری ہے لیکن پٹرول اور ڈیزل کے دام محض 0.90 فیصد ہی کم کئے گئے ہیں، ایسا کیوں؟ مودی حکومت خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ لوگوں تک پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔‘‘
पिछले 7 दिनों में कच्चे तेल के भाव 13.65% गिरे है, पर पेट्रोल-डीज़ल के दामों में महज़ 0.90% ही घटे है।
ऐसा क्यों?
भाजपा सरकार कच्चे तेल के दामों में गिरावट का फ़ायदा लोगों तक पहुँचाने में नाकाम रही है।
पेट्रोल-डीज़ल व रसोई गैस दामों में राहत,
यही है जनता की नई सरकार से चाहत! pic.twitter.com/fVDq8R5Pii— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) June 5, 2019
سرجے والا نے مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو امید ہے کہ وہ پٹرول – ڈیزل اور رسوئی گیس کے دام کم کرکے انہیں راحت دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’پٹرول – ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں راحت، یہی ہے عوام کی نئی حکومت سے چاہت۔‘‘
واضح رہے کہ پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں گزشتہ 6 دنوں سے لگاتار گراوٹ درج کی جا رہی ہے اور اس دوران قیمتیں 13 فیصد سے زیادہ گر چکی ہیں لیکن تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی گھریلو قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی۔ راجدھانی دہلی میں اس دوران دپٹرول کی قیمت 63 پیسے اور ڈیزل کی قیم 1.13 روپے فی لیٹر کم کی گئی ہے تاہم خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے تناسب میں یہ راحت بے حد کم ہے، یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ پر کانگریس نے مودی حکومت کو گھیرا ہے۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
