مندر ادھر ادھر ہی بنانا تھا تو بابری مسجد کیوں توڑی؟ ہاردک پٹیل

ایودھیا میں رام مندر تعمیر بھارتیہ جنتا پارٹی ( بھاجپا) کا سب سے طاقتور مدعا رہا ہے ۔ گذشتہ 3 دہائیوں سے بھاجپا اور ہندو تنظٰمیں یہی کہتی آرہی ہیں کہ مندر وہیں بنائیں گے لیکن اب مرکز کی نریند رمودی سرکار نے سپریم کورٹ میں عرضی دے کر یہ کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر متنازعہ حصے کو چھوڑ کر باقی کا حصہ مندر ٹرسٹ کو دے دیا جائے تاکہ مندر کی تعمیر ہو سکے ۔

بھاجپا کی اس عرضی پر ہاردک پٹیل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ،” بھاجپا لگ بھگ 3 دہائیوں سے بول رہی تھی رام لَلہ ہم آئیں گے مندر وہی بنائیں گے ، لیکن آج اچانک بھاجپا اور آر ایس ایس کورٹ میں چلی اور مندر ادھر ادھر بنانے کی مانگ پر راضی ہوگئیں ۔ جب مندر سائیڈ سے ہی بنا تھا تو رتھ یاترا کیوں؟، مسجد کیوں توڑ دی گئی؟ کار سیوکوں کے قتل کا ذمہ دار کون ؟ ہے ۔

غور طلب ہے کہ ایودھیا میں مندر اور مسجد کو لے کر چل رہا تنازعہ محض 0.313 ایکڑ زمین پر ہے اور الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 2.7 ایکڑ زمین پر فیصلہ سنایا تھا ۔ اس کے علاوہ 67 ایکڑ زمین اس کے ارد گرد ہے جس کو لے کر بھاجپا حکومت سپریم کورٹ گئی تھی ۔
#BabriMasjid #RamMandir #SupremeCourt #HardikPatel #BJP #RSS

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading