ممبئی23،اکتوبر۔ عروس البلاد ممبئی میں 6دسمبر کو اجودھیا میں بابری مسجد کی مسماری کے بعداور پھر جنوری 1993میں پھوٹ پڑنے والے خونریز فسادات پر سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کو نافذ کرنے کا مطالبہ سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر اور ممبئی کے صدر ابوعاصم اعظمی نے کیا ،کیونکہ تقریباً20سال قبل رپورٹ کو حکومت کے روبروپیش کردیا گیا تھا ،لیکن اس عرصہ میں مظلومین اور متاثر ین انصاف سے محروم ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ جسٹس بی این سری کرشنا کی سربراہی میں کمیشن نے ایک غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رپورٹ پیش کی تھی اس لیے رپورٹ کی سفارشات کو نافذ کرنے کے لیے حکومت اقدام کرے اور ایک مثال قائم کی جائے ۔کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات نافذکیے جانے کے لیے سماجوادی پارٹی کے صدراورایم ایل اے ابوعاصم اعظمی ہمیشہ سے اسے نافذکرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رپورٹ کو نہ صرف نافذ کیا جائے بلکہ قصورواروں کو کفرکردار تک پہنچایا جائے اور اس رپورٹ کی سفارشات کونافذ کرنے کے لیے فوری کارروائی کی جائے ۔انہوں نے ایک بایر پھر اس مطالبہ کو دوہرایا ہے کہ سری کرشنا کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ دراصل جسٹس بی این سری کرشنا کی ایک منصفانہ رپورٹ قراردیا جاسکتا ہے او راس پر عمل آوری انتہائی ضروری ہے ،اس لیے حکومت اس ضمن میں موثر اور ٹھوس قدم اٹھا ئے تاکہ مظلومین کو انصاف مل سکے انہوں نے کہا کہ پہلے کانگریس ۔این سی پی اور پھر موجودہ حکومت نے کچھ نہیں کیا ہے ،جس کی وجہ سے مظلومین دودہائی کے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں۔