سعودی عرب میں معروف ثقافتی مرکز "دارہ ملک عبدالعزیز” کی جانب سے مسجد حرام کی اذان کی سب سے پرانی صوتی ریکارڈنگ کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ ریکارڈنگ 138 برس سے زیادہ پرانی ہے۔
اس اذان کو ہالینڈ کے معروف مستشرق اور سیاح Christiaan Snouck Hurgronje نے 1302 ہجری مطابق 1885ء میں ریکارڈ کیا تھا۔ یہ ہالینڈ میں لائڈن یونیورسٹی میں محفوظ ہے۔
مذکورہ سیاح نے اپنی کتاب Mekka in the Latter Part of the 19th Century میں بتایا ہے کہ اس نے مکہ مکرمہ میں سورہ الضحی کی تلاوت سمیت کئی آوازیں ریکارڈ کیں،،، اور اپنی کتاب میں مکہ اور جدہ کے بارے میں مشاہدات اور تاثرات قلم بند کیے۔ کتاب میں اُس وقت کے حرم مکی کے مؤذن (جو ہو سکتا ہے کہ وہ ہی شخصیت ہوں جن کی آواز ریکارڈنگ میں ہے) کی تصاویر اور دیگر واقعات بھی شامل ہیں۔
#فيديو الدارة |📺
"الله أكبر” أقدم شعور في الكون
وهذا أقدم تسجيل للأذان في المسجد الحرام
يعود إلى حوالي عام ١٣٠٢هـ هو إحدى الوثائق الصوتية النادرة المحفوظة في مكتبة جامعة لايدن بهولندا تنقلها لكم #دارة_الملك_عبدلعزيز
تأمل الفروقات بين ذلك الأذان قبل مكبرات الصوت والأذان الحالي pic.twitter.com/w6ml9ysOzh— دارة الملك عبدالعزيز (@Darahfoundation) May 17, 2019
مسجد حرام کی تاریخ سے متعلق ایک محقق نے اذان کی صوتی ریکارڈنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ مؤذن کی آواز کا لہجہ، مؤذن کی آواز کے ساتھ دیگر مؤذنین کی آواز کا شامل نہ ہونا (یاد رہے کہ اُس زمانے میں 7 میناروں سے بیک وقت 7 مؤذن اذان دیا کرتے تھے)، ریکارڈنگ کی بھاری مشین کو منار تک چڑھا کر لے جانا، آواز کی کوالٹی اور واضح ہونا … یہ تمام امور اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ اذان ریکارڈنگ کی غرض سے ہالینڈ کے مستشرق کے واسطے خصوصی کمرے میں دی گئی تھی۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ عمل مکہ مکرمہ میں نہیں بلکہ جدہ شہر میں پورا کیا گیا ہو۔
اس سے قبل مذکورہ مستشرق کے حوالے سے اسی سال کی ایک اور ریکارڈنگ منظر عام پر آ چکی ہے جس کو مسجد حرام کی تلاوت کی قدیم ترین ریکارڈنگ شمار کیا گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ محمد عبداللطيف