منامہ ۔ ایجنسیاں : امریکا کے اتحادی بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان دونوں ملکوں میں پہلے سے موجود بحرینیوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے واپس آجائیں۔
بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کے مطابق وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز’’ غیر مستحکم علاقائی حالات ، خطرناک پیش رفت اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہ انتباہ جاری کیا ہے‘‘۔عراق میں کام کرنے والی کمپنی ایکسن نے بھی تیل کے کنووں پر کام کرنے والے اپنے غیر ملکی عملہ کو آج واپس بلا لیا ہے۔ اس نے یہ فیصلہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد کیا ہے۔
امریکا نے خود گذشتہ بدھ کو ایران سے حالیہ کشیدگی کے بعد عراق میں موجود اپنے غیر ہنگامی ( نان ایمرجنسی) سرکاری ملازمین کو وطن روانگی کا حکم دیا تھا۔بغداد میں امریکی سفارت خانے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ سفارت خانے اور عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل میں واقع امریکی قونصل خانے میں معمول کی ویزا خدمات عارضی طور پر معطل رہیں گی۔ امریکی حکومت نے عراق میں موجود امریکی شہریوں کو بھی ہنگامی خدمات مہیا کرنے کی صلاحیت محدود کردی ہے‘‘۔
بیان میں اس حکم سے متاثر ہونے والے امریکیوں کو تجویز کیا گیا تھا کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو، تجارتی ٹرانسپورٹ کے ذریعے عراق سے واپس روانہ ہوجائیں ۔امریکی محکمہ خارجہ نے عراق میں موجود امریکی شہریوں کے لیے چوتھے درجےکی سفری ہدایت جاری کی تھی ۔اس میں کہا گیا کہ ’’ سفر نہ کیا جائے‘‘۔اس نے دہشت گردی ، اغوا کی واداتوں اور مسلح تنازع کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا۔