مراٹھا سماج کو ریزرویشن :‘پُر امن مورچے اور چالیس نوجوانوں کی قربانی کا شاندار پھل

تجزیہ خبر:سعیدپٹیل ‘جلگاوں: ریاست مہاراشٹر کی اسمبلی میں مراٹھا سماج کو سولا فیصد ریزرویشن دئے جانے کافیصلہ ہوچکاہے۔آخر یہ پھل سماج کو کیوں ملا۔حکومت مہاراشٹر نے سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ایس ای بی سی یہ آزادانہ طور پر مراٹھاسماج کو ملازمتوں اور تعلیم میں سولا فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان ہوا ہے۔ اس اعلان کے بعد ریاست بھر میں مراٹھا سماج جشن منارہاہے۔ مہاراشٹر حکومت کا یہ فیصلہ قابل مبارکباد ہے۔لیکن اسی دوران اس خبر نے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو مایوس کیاکہ انھیں ریزرویشن نہیں دیاجا?گا۔ اس اعلان سے کھلی مسلم دشمنی واضع ہوگئیں۔جوکہ ہمارے ملک کے سیکولر تانے بانے کےل? تشویشناک ہے۔ایک طرف ریزرویشن ملنے کے اعلان سے ہمارے مراٹھابھائیوں میں خوشی و جشن کاماحول ہیں۔جبکہ مسلمانوں کی تعلیمی ،سماجی ،معاشی ،سرکاری ملازمتوں میں موجودگی ایک سے تین فیصد ہی رہے گئیں ہے۔اس تعلق سے سچر کمیٹی ،رنگناتھ مشرا کمیٹی اور محمودالرحمٰن کمیٹیوں نے ملک کے مسلمانوں کی پسماندگی کی صورتحال کا جایزہ پیش کرکے اس بات کی سفارشات کامطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو بھی ریزرویشن کی سخت ضرورت ہے۔جو کہ پورے ملک کے سامنے آئینے کی طرح واضع ہوچکا ہےپھر کیا وجہ ہےکہ مسلمانوں کو کچھ نہ کچھ ریزرویشن دینے سے بھی حکومتیں انکار کرتی رہتی ہیں۔اسی دوران مسلم ریزرویشن کامطالبہ بھی مسلم قیادت کی جانب سے کیا جاتارہاہے۔ہنوز یہ مطالبہ کیاجانا جاری ہیں۔لیکن مسلمانوں کو ریزرویشن کے مطالبے میں ایک اہم مسئلہ یہ کہ سیاسی قوت ارادی اور اتحاد کا فقدان ہونے سے مطالبات وقفہ وقفہ سے ک?جاتے ہیں۔؟بحرحال وزیراعلی کی جانب سے ایک خوشگوار خبر یہ آءکہ مسلم ریزرویشن بھی حکومت کے زیرغور ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading