
آخرکار کرتارپور کوریڈور کا سنگ بنیاد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں ہو ہی گیا۔ جس کا مطالبہ پچھلے کئی برسوں سے ہندوستان کرتا آرہا تھا۔ یقینا یہ دونوں ملکوں اور امن کے متوالوں کے لئے مثبت اور خوشی کا پہلو ہیں۔ کرتار پور جاکر وہاں کی زیارت کرنا سکھ مذہب کے ہر فرد کے لیے سعادت کی بات ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کرتارپور کوریڈور ہند پاک رشتوں کی نئی ڈور ثابت ہوگا؟ کیا دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی؟ کیا دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا؟ کیا دونوں ملکوں میں امن و امان برپا ہوگا؟ اور ایسے نہ جانے کتنے سوالوں کا ایک ہجوم دونوں طرف کی پرامن عوام کے ذہنوں میں ابھرنا لازمی ہے۔
بات کچھ زیادہ دنوں کی نہیں ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں ان کے کرکٹر دوست اور پنجاب کانگریس کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے پاکستان پہنچنے پر خوب واویلا مچا۔ اور ہنگامہ تب ہوا جب سدھو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر احمد باجوہ سے بغل گیر ہوئے۔ جب ہنگامہ زیادہ بڑھا تب سدھو نے کہا کہ قمر احمد کے کوریڈور کھولنے کی بات پر میں خوش ہوکر ان سے بغلگیر ہوا۔ سدھو وہاں بطور کرکٹر اپنے دوست کی حلف برداری تقریب میں پہنچے تھے۔ لیکن اس وقت سب سے زیادہ شور مرکزی وزیر برائے خوراک ہرسمرت کور بادل نے مچایا تھا۔ آج جب کوریڈور کا افتتاح ہوا تو موصوفہ بھی وہاں حاضر تھی۔ میں موصوفہ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر پاکستان کے وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں سدھو کا وہاں پہنچنا غلط تھا تو پھر آپ کا کوریڈور کی حلف برداری میں پہنچنا کہاں تک صحیح ہے؟ کیا آپ خود کے ووٹ بینک اور خود کی سیاست کے لئے وہاں پہنچی ہے؟ جب آپ کو اس وقت اتنا شدید اعتراض تھا تو پھر آج آپ وہاں کیوں گئی؟ سدھو تو صرف گلے ملے تھے، انہوں نے کوئی سرمایہ داروں سے ڈیل تو نہیں کی تھی۔ اور اگر اس وقت سدھو وہاں نہیں جاتے تو کیا بات آگے بڑھ پاتی؟ اور آج کوریڈور کا افتتاح ہوپاتا؟
کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ جب سے عمران خان نے پاکستان کی قیادت سنبھالی ہے تب سے وہ خطہ میں امن و امان کی بات کرتے آرہے ہیں۔ اور صرف باتیں ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر انجام بھی دے رہے ہیں۔ جس کا ثبوت حالیہ کوریڈور کا افتتاح ہے۔ لیکن افسوس اس وقت ہوا جب پاکستان میں اس تقریب میں امن و امان و بھائی چارہ اور دوستی کی بات ہو رہی تھی، ٹھیک اسی وقت وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کو یہ کہہ رہی تھی کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ بہتر ہوتا کہ محترمہ تھوڑا انتظار کرتی۔ جب پڑوسی ملک یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ہے۔جب وہ دو قدم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ پہل کرنا چاہ رہے ہیں، ایک طرف سے اتنا سب کچھ ہو رہا ہے تو دوسری طرف سے بھی ہونا لازم ہے۔
لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوۓ ایسا نہیں لگتا ہے کہ کرتارپور کوریڈور ہند پاک رشتوں کی نئی ڈور ثابت ہوگی۔ ہماری سیاست کا معاملہ بھی بہت عجیب ہے۔ ہم بطور وزیراعظم بغیر کسی بلاوے کی پاکستان اتر جاتے ہیں۔ وہاں تحفے تحائف دیتے ہیں۔ اگر کوئی ہمیں عزت کے ساتھ وہاں مدعو کرتا ہے اور ہم بطورِ حزب مخالف لیڈر وہاں جاتے ہیں تو ہنگامہ مچایا جاتا ہے۔ محترمہ سشماسوراج ان چار سالوں میں بطور وزیر خارجہ کچھ بھی نہیں بولی اور جب بولی تو کیا بولی کہ چپ رہتی تو بہتر تھا۔ مجھے آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے جب کانگریس اقتدار میں تھی اور منموہن سنگھ وزیراعظم تھے، تب پارلیمنٹ میں بحث چل رہی تھی اور سشما سوراج اپنا بیان دے رہی تھی تب انہوں نے منموہن سنگھ کی خاموشی پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ
آپ بولے تو کچھ بات بنے
خاموشی دوریاں بڑھاتی ہے
بالکل صحیح کہا تھا آپ نے خاموش رہنے سے دوریاں بڑھ جاتی ہے۔ لیکن آج آپ 4 سال میں پہلی مرتبہ بطور وزیر خارجہ بولی اور جو بولی ہوسکتا ہے اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مزید دوریاں بڑھ جائے۔
بہرحال کوئی بولے یا خاموش رہے، لیکن عوام امن و سکون چاہتی ہے۔ دونوں طرف کی حکومتوں سے اتنی ہی گزارش ہے کہ تعلقات کو جلد از جلد بہتر کرے تاکہ عوام چین و سکون کی زندگی بسر کرے۔