ممبئی،24 اپریل (ایجنسیز)مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے آج سٹنا میں کہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران رائے دہندگان کو الجھن میں مبتلا کرنا کانگریس کا منفی طریقہ کار ہے ،جب بھی رائے دہندگان اپنے پسند کا موقف اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،تب تب کانگریس کو اس کا احساس ہوتا ہے ،وہ ووٹرس کو الجھن میں مبتلا کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ موجودہ لوک سبھا الیکشن میں بھی کانگریس نے یہی طریقہ کاراپنایا ہے ،دھولیہ میں بی جے پی کے لوک سبھا امیدوار اور مرکزی وزیرسبھاش بھامرے کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے اس طریقہ کار سے عوام پوری سے واقف ہوچکے ہیں ،کانگریس نے غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے اور یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ آدی واسیوں کا ریزرویشن ختم کردیا گیا ہے۔،لیکن وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں آدی واسیوں کے معاملہ میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوگی اور ان کی قیادت میں ایکنئے دورکا آعاز ہوا ہے۔یہ منصوبہ کسی بھی بحرانی دورمیں کام کرے گا۔
انہوں نںے الزام عائد کیا کہ کانگریس جن دھن منصوبہ میں ابتدائی دورمیں رخنہ اندازی پیدا کرنے کی کوشش کی ،جبکہ پیاز،ٹریکٹر،گھریلو اشیاء،بیت الخلاءڈقرض معافی ،قحط سالی وغیرہ کی رقم راست متاثرین کے کھاتے میں جمع ہوتی ہے۔ہمارا منتر’سب ساتھ سب کا وکاس ‘ہے اور سب کے لیے مساوی ترقی کا نعرہ دیا گیا ہے،مودی نے بڑی تعداد میں منصوبے شروع کیے ہیں،اور ان کا فائدہ ہر کسی کوملے گا ،اس کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات ، فرقہ اورنظریات سے کیوں نہ ہو۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہاکہ مالیگاﺅںبم دھماکہ کی ملزم اور بھوپال سے بی جے پی کی امیدوار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکربی جے پی کی قوم پرست کی منفی تصویر نہیں ہیں اور اس کے ساتھ پرگیہ سنگھ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تقریروںمیں صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں ،اور دعویٰ کیا کہ این آئی اے کے مطابق سادھوی کے خلاف مالیگاﺅں بم دھماکہ میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔جوکہ حال میں اے ٹی ایس کے آنجہانی سربراہ ہیمنت کرکرے کو ایک ظالم اور ملک دشمن افسر قراردے چکی ہیں اور یہ بھی کہا کہ ان کی موت سادھوی کی بدعا کی وجہ سے ہوئی تھی۔
انہوںنے مزید کہا کہ سادھوی پرگیہ سنگھ بھی کانگریس صدرراہل گاندھی کی طرح ضمانت پر رہاہیں،یہ کہاجاسکتا ہے کہ ان کے خلاف الگ قسم کے الزامات عائد ہیں ،لیکن قانون میں کوئی مختلف چیز نہیں ہوتی ہے۔
فڑنویس نے الزام عائد کیا کہ 2007-2008میں کئی بم دھماکوںمیں بڑی تعداد میں مسلمان گرفتار کیے گئے اور کانگریس نے محسوس کیا کہ مسلمان ان سے دورہوچکے ہیں اور اسی کا مقابل مذکورہ گرفتاری ممکن ہوئی ،اور اسے ’ہندودہشت گردی‘کا نام دیا گیا اور بدقسمتی سے چند سرکاری وکلاءنے اس افسانہ کو تقویت بخش دی۔