ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماءاورمہاراشٹرکے وزیرونود تاوڑے نےکل کہا کہ سیاسی حالات سے ایسا محسوس ہورہا ہے ،ایم این ایس کے رہنماءراج ٹھاکرے اب کانگریس کے لیے ووٹ مانگیں گے،انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں کانگریس کسی طرح کا الزام عائد کرنے میں ناکام رہی ہے ،بلکہ اس کے قدآورلیڈران گھوٹالوں اور گھپلے میں ملوث پائے ہیں۔
دریں اثناءریاستی وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی ناسک میں ایک اور ممبئی میں تین انتخابی جلسوںسے خطاب کیا ہے۔انہوںنے ان جلسوں میں شردپوار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میدان میں آنے کے بعد وہ ’بیک ٹوپویلین پہنچ گئے ہیں۔“کیونکہ وہ ہوا کہ رُخ کو جان چکے ہیں۔
اس موقع پرونودتاوڑے نے مزید کہا کہ ایم پی سی سی کے صدراور سابق وزیراعلیٰ اشوک چوہان ’آدرش ‘گھوٹالہ میں ملوث پائے گئے ،ایسا کوئی گھوٹالہ ہم نے نہیں کیا ،اسی طرح چندرپورمیں کانگریس لیڈرآشرم اسکول میں لڑکی کا جنسی استحصال معاملہ میں ملوث پائے گئے ہیں جبکہ ان کی موجودگی میں چندر پورکانگریس کے صدروجے وڈیڈٹیوار نے الزام لگایا کہ پوسکو کے ذریعہ سے مالی امداد مل رہی ہے۔
انہوں کہا کہ یہ افسوناک امر ہے کہ ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے اس درمیان خواتین کا جنسی استحصال کرنے والے امیدواروںکو ووٹ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔جبکہ ملک بچانے والے مودی کو ووٹ نہ دیئے جائیں ،ایسی مانگ کرنے پر راج ٹھاکرے وضاحت پیش کریں ۔ونودتاوڑے کی ریاستی بی جے پی دفتر میں ہونے والی پریس کانفرنس میں مرکزی شعبہ کے سربراہ کیشواپادھیہ اورترجمان اتل شاہ بھی موجودتھے۔
ونود تاوڑے نے مزید کہا کہ اشوک چوان کو چندرپور میں کانگریس لیڈروں کے آشرم اسکول میں طالبات پر ہونے والے مظالم پر توجہ دینا چاہیے اور بی جے پی شیوسینا اتحاد پر الزامات سے بچنا چاہئے ۔
انہوں نے کہاکہ 1975میں ملک میں جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی تب شردپوار خود کانگریس میں شامل رہے اور اب پوار موجودہ حکومت پر الزام تراشی کررہے ہیں جوکہ مناسب نہیں ہے ،اس موقع پر لہوجی شکتی سینا کے صدرسومناتھ کامبلے نے بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ریاستی وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی ناسک میں ایک اور ممبئی میں تین انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔جبکہ مرکزی وزیرمملکت پروستم روپالا نے ملنڈ اور گھاٹ کوپر میں انتخابی جلسوں میں خطاب کیا ہے۔