جلگاؤں.18۔اکتوبر (سعیدپٹیل کی خصوصی رپورٹ )عسوی سن انیس سو بہتر کی قحط سالی اور اب عسوی سن دوہزار اٹھارہ کی قحط سالی جب دووقت کی روٹی کےلۓ اناج کی کمی تھی اور اب پینے کےپانی کی کمی ھے۔جب حکومت کی جانب سے روزگار گیرنٹی منصوبوں کے تحت عوام کو روزگار دۓ گۓ تھے۔جس کے ذریعے سڑکوں کی تعمیر ،کھیتوں میں پانی کی نہریں ،پاجھر تالاب ،ندیوں میں سڑکوں کےلۓ پتھر پھوڑنے کی مزدوری وغیرہ کے کام کےدروازے کھلےگۓ تھے جس پر گاؤں والے کام کرکے مزدوری حاصل کرتےتھے۔اتنا ہی نہیں کام کی جگہ لال جواری اور میٹھا روا تقسيم کیا جاتاتھا۔لیکن اس وقت کی قحط سالی جیسے حالات نہیں ہیں۔ چھنیالیس سال قبل قحط سالی کے برس میں عوام کی محنت مشقت کرنے کی ذہینیت تھی۔لیکن آج کے تکنیکی دور میں محنت مشقت کارحجان بہت کم ہوچکا ہیں۔وسے اس وقت پانی کی قلت پر مات کرنے کےلےعوام ہی کو اس مسئلے کا حل نکالناہوگا۔پانی کٹوتی یہی ایک واحد حل ھے ۔پورے مہاراشٹر سےموصولہ خبروں کے مطابق پچاس سے زاید تحصیلوں میں قحط جیسے حالات پیدا ہونے کا خطرہ منڈلارہا ہے۔اس وقت موجود آبی وسائل کو جتن کرنا اور کٹوتی پر عمل کرتےہوۓآئیندہ برس کی بارش تک اس ذخیرہ کو استمعال کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔اسی کے ساتھ کسان برادران کےلئے حکومت کو ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔