لاتور میں  نوجوان لڑکی اپوروا یادو کے قتل معاملے میں امر شندے گرفتار

کل دوپہر مکان میں ہوا تھا قتل..لاتور پولس کی کاروائی…

لاتور(محمدمسلم کبیر) لاتور شہر کے وشال نگر میں واقع یش شری بنگلے میں گھس کر19سالہ نوجوان لڑکی اپوروا اننت یادو کا پیٹ میں گھونپ کر ہوئے بہیمانہ قتل کے معاملے میں لاتور پولس نے چند گھنٹوں میں مقتولا کے پڑوسی امر وینکٹ شندے (21)کو گرفتار کیا ہے. لاتور ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجیندر مانے نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتاری کے بعد امر شندے نے اپنے جرم کو قبول بھی کرلیا ہے.واضح ہو کہ کل دوپہر 12:30تا 1:30 بجے کے درمیان لاتور شہر کے وشال نگر میں یش شری بنگلے میں رہنے والی 19 سالہ اپوروا اننت یادو اپنے مکان میں تنہا ہونے کا خیال آتے ہی اس کے پڑوسی امر وینکٹ شندے(21 سالہ پالیٹیکنک کالج کا طالب علم) نے اپوروا کے گلے پر دھاردار ہتھیار سے وار کرتے ہوئے پیٹ میں دھکر دار ہتھیار سےگھونپ کر قتل کیااور باہر نکل کر دروازے کو باہر سے بند کر دیا.بعد ازاں اپوروا کی والدہ باہر سے گھر پہنچی تو اس دلخراش واقعے سے خوفزدہ ہوئی.چیخ پکار کے بعد اس علاقے کے لوگ جمع ہوگئے اور اپوروا کو سرکاری دواخانے لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے میت قرار دیا. لیکن یہ بہیمانہ قتل لاتور پولس کے لئے ایک چیلینج بن گیا.کل شام سینئر پولس افسران سمیت ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجندر مانے,زائد ایس پی ڈاکٹر کاکا صاحب کاڑے, شہر پولس ڈی وائی ایس پی ہمت جادھو, لاتور ایم آئی ڈی سی پولس اسٹیشن کے سب انسپکٹر اشوک مالی,لوکل کرائم برانچ کے انسپکٹر سنیل ناگرگوجے جائے وقوع پر پہنچےاور جائزہ لینے کے بعد تفتیشی دستے مقرر کئے تب اپوروا یادو کے قتل کی سوئی اس کا پڑوسی امر وینکٹ شندے نامی پالی ٹیکنکل کالج کا 21 سالہ طالب علم کی طرف گھومنے لگی تو پولس نے اس کوفوری گرفتار کیااور متشبہ مجرم نے اپنے جرم کی اقبالی بھی دے ڈالی.یہ بات ایس پی ڈاکٹر راجندر مانے نے پریس کانفرنس میں کہی.اپوروا اننت یادو اور سارتھک بالا صاحب جادھو دونوں ہم جماعت تھے.ثانوی تعلیم کے حصول کے بعد اپوروا یادو بی اے ایم ایس کے لئے تیر داڑ جمکھنڈی کرناٹک کے میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تھااور سارتھک جادھو اورنگ آباد گیا.دریں اثناء سارتھک جادھو نے خودکشی کی تھی.اس خودکشی معاملے میں پولس نے اپوروا اننت یادو اور ماولی گھولپ پر 23/جولائی 2018 کو ڈھوکی ضلع عثمان آباد پولس اسٹیشن میں دفعہ306 کے تحت ایف آئی آر درج کیا تھا. سارتھک بالا صاحب جادھو اور امر وینکٹ شندے بھی ایک دوسرے کے دوست تھے. لہذہ سارتھک جادھو کی موت کا انتقام امر شندے کے لینے کا شبہ کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے.اپوروا کے قتل میں کونسے ہتھیار کا استعمال ہوا اور اس معاملے میں مزید شرکاء کون ہیں اس تعلق سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایس پی ڈاکٹر مانے نے کہا کہ یہ تفتیش کاایک حصہ ہےاورفی الحال امر شندے کو اپوروا یادو قتل کے معاملے میں گرفتارکیا گیا ہے.اس معاملے میں ایم آئی ڈی سی پولس اسٹیشن میں جرم درج کیاگیا ہے. مقتولہ اپوروا یادو کے والد اننت نارائن یادو نے اپنی شکایت میں چند متشبہ ناموں کو درج کیا تھالیکن پولس ان ناموں کی فہرست عیاں کرنے سے انکار کیا.آج دوپہر اپوروا یادو کی نعش اس کے سرپرستوں کے حوالے کی.اس کے باوجود اپوروا یادو کا گلا گھونٹ کر پھرپیٹ میں گھونپنے کاشبہ ہے.پوسٹ مارٹم رپورٹ ہنوز دستیاب نہیں ہوئی لیکن لاتور پولس کی اس بعجلت اور مستعدی کے ساتھ تحقیقات اورمجرم کی گرفتاری پر شعبہ پولس کو سراہا جارہا ہے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading