فیس بک معاملہ : چار سال بعد انتہائی اہم دستاویزات اے ٹی ایس عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہے

ممبئی:یکم فروری(ورق تازہ نیوز) ممبئی کے مشہور تجارتی خطہ باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC)میں واقع امریکن اسکول میں دھماکہ کرنے کی مبینہ سازش رچنے کے الزامات کے تحت گرفتا ر ملزم انیس انصاری کے مقدمہ کی سماعت کے دوران گذشتہ کل اس کی کمپنی میں کام کرنے والے آئی ٹی ٹیکنیشین کی گواہی عمل میں آئی جس کے دوران ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاءنے چار سال کے بعد الیکٹرانک ریکارڈ کے تعلق سے درکار سرٹیفیکٹ عدالت میں پیش کرنے پر اعتراض کیا اور عدالت کو بتایا کہ اے ٹی ایس کو کمپیوٹر ضبط کرنے کے وقت قانون شہادت کی دفعہ 65Bکے تحت درکار سرٹیفیکٹ چارج شیٹ داخل کرتے وقت عدالت میں پیش کرنا چاہئے تھا ، آج چار سال کا وقفہ گذر جانے کے بعد اے ٹی ایس یہ کوشش کررہی ہیکہ سرٹیفیکٹ کو ریکارڈ پر لایا جائے جو قانوناً جائز نہیں ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ممبئی سٹی سول سیشن عدالت کے جج اے اے خان کے روبر و گذشتہ کل ایک سرکاری گواہ کی گواہی عمل میں آئی جس نے سرکاری وکیل مد ھوکردلوی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم انیس انصاری اس کی کمپنی میں کام کرتا تھا اور وہ آفس کے کمپیوٹر سے فیس بک استعمال کرتا تھا نیز اے ٹی ایس نے اس کی موجودگی میں کمپیوٹر کو ضبط کیا تھا ۔وکیل استغاثہ نے جیسے ہی کمپیوٹر و دیگر الیکٹرانک ریکاڑد کو درکار انڈین ای ویڈنس ایکٹ کی دفعہ 65Bکے تحت درکار سرٹیفیکٹ عدالت میں پیش کرنے کی کوشش کی دفاعی وکیل شریف شیخ نے اعتراض کیا اور جج کو بتایا کہ سرٹیفیکٹ داخل کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے ، استغاثہ کو سرٹیفیکٹ چارج شیٹ داخل کرنے کے وقت عدالت میں پیش کرنا چاہئے تھا ۔دفاعی وکیل شریف شیخ کے اعتراض کے بعد معزز جج نے وکیل استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ معاملے کی اگلی سماعت پر اس تعلق سے بحث کرے نیز فریقین کی بحث مکمل ہونے کے بعد وہ اپنا فیصلہ صادر کریں گے تب تک سرکاری گواہ کی گواہی ملتوی کی جاتی ہے۔دورن کارروائی عدالت میں ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم ، ایڈوکیٹ ابھیشیک پانڈے، ایڈوکیٹ محمد ارشد ،ایڈوکیٹ شروتی ویدیہ، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ و ددیگر موجود تھے۔

آج کی عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد جمعیة علماءقانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم انیس انصاری کو۸۱ اکتوبر ۴۱۰۲ ءکو گرفتار کیا گیا تھا جب سے جمعیة علماءاس کے مقدمہ کی پیروی کررہی ہے نیزاس درمیان ملزم کی ضمانت پر رہائی کے تعلق سے نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک کوشش کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں ملزم کی ضمانت عرضداشت پر سپریم کورٹ میں سماعت عمل میںآئی تھی جس کے دوران عدالت ملزم کو ضمانت پررہا کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن اپنے حکم نامہ میں لکھا تھا کے مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل کیجائے اور ملزم کو چھ ماہ بعد پھر ممبئی ہائی کورٹ سے رجو ع ہونے کی اجازت دی تھی۔گلزار اعظمی نے کہا چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے لہذا جلد ہی ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔واضح رہے کہ ملزم انیس انصاری جو پیشہ سے ایک سافٹ وئیر انجینئر ہے اور گرفتاری سے قبل غیر ملکی کمپنی برسر روزگار تھا کو مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے ۸۱ اکتوبر ۴۱۰۲ءکو اس الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا کہ جہادی سرگرمیوںمیں ملوث ہے اور وہ مشہور شوشل نیٹورکنگ سائٹ فیس بک پر کسی غیر ملکی سے رابطہ تھا اور دونوں نے غیر ملکیوں کو قتل کرنے اور امریکن اسکول کو بم دھماکہ کرنے کی سازش رچ رہے تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading