مکہ مکرمہ :(ایجنسیز)عالم اسلام ان دنوں آزمائشوں اورسازشوں کے دورسے گذررہا ہے۔ مسلمان آپس میں متحد رہیں۔ دیگرمذاہب کے ماننے والوں سے اچھے روابط قائم کریں۔ مکہ مکرمہ میں منعقدہ رابطہ عالم اسلامی کی عالمی کانفرنس میں ان خیالات کا اظہارکیا گیا۔مذہب اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمی اسلامی کی دوروزہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔ مکہ کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقدہ اس کانفرنس کا آغاز لبنان کے مفتی ڈاکٹرعبدالطیف فایزدریان کے خطاب سے ہوا۔ دنیا کے موجودہ حالات، مسلم ممالک کو درپیش چیلنجز، اسلام کے خلاف لگائے جانے والے الزامات، ان تمام امورپرکانفرنس میں گفتگو ہوئی۔ دنیا کے مختلف ممالک کے علاوہ ہندوستان سے بھی مندوبین اس دوروزہ کانفرنس میں شریک رہے۔اس عالمی کانفرنس کو سعودی عرب کے فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزآل سعود کی سرپرستی حاصل رہی۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے خطاب کو مکہ کے گورنرشہزادہ خالد الفیصل نے پیش کیا۔ شاہ سلمان نے اپنے تحریری خطاب میں کہا کہ کلمہ توحید پر مسلمان متحد ہو جائیں۔ اختلافات موجود ہیں۔ علمائ کرام اختلافات کے آداب سے واقف کروائیں۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ علمائےکرام پر بڑی ذمہ داری ہے۔ اسلام کے خلاف لگائے جانے والے دہشت گردی اور متعصبانہ الزامات کا جواب دینے کی ذمہ داری علمائ پرہے۔ کانفرنس میں مختلف ممالک کے علمائے کرام نے شرکت کی اور اسلامی اصول اور اخوت کی بنیاد پرسعودی عرب حکومت کے پس پشت کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ علمائ نے اپیل کی کہ مسلمان اپنے مسلکی اختلافات اورذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھیں۔ اجلاس میں ہندوستان سے جمعیت علمائ ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی،امیرمرکزی جمعیت اہل حدیث اصغرعلی امام مہدی، وارانسی کے جامعہ سلفیہ کے جنرل سکریٹری عبداللہ سعود اوردیگر اہم علمائے کرام نے شرکت کی۔