راہول کواب کوئی پپو نہیں کہے گا

نئی دہلی:13ڈسمبر ۔(ایجنسیز) تین ریاستوں کے ودھان سبھا یعنی ریاستی اسمبلی کے انتخابات جیتنے کے بعد جب کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی ذرائع ابلاغ سے مخاطب ہوئے تو کئی ایسی باتیں کہہ گئے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ راہل اب ذمہ داریوں کے لیے تیار ہیں۔عام طور پر انتخابات کے بعد ہونے والی پریس کانفرینس میں سیاسی جماعتوں کے رہنما پارٹی کے کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ راہل گاندھی نے الگ انداز میں میڈیا سے بات کی۔
پارٹی کارکنان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد وہ سوالوں کے جواب دینے کے لیے اطمینان سے بیٹھے رہے۔ وہ بھاگنے کی جلدی میں نہیں دکھائی دیے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے تین ریاستوں کی جیت نے انہیں نئی امید اور حوصلے سے بھر دیا ہے۔ ان کے تیور بدلے بدلے سے تھے۔صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ بی جے پی ہمیشہ ’کانگریس سے آزاد‘ بھارت کی بات کرتی ہے۔ کیا کانگریس کی واپسی کے بعد ‘بی جے پی سے آزاد‘ بھارت کا آغاز ہوگا؟راہل نے بڑے ہی سلجھے ہوئے انداز میں جواب دیا کہ ’ہماری سوچ مختلف ہے۔ بی جے پی کا اپنا ایک نظریہ ہے۔ ہم اس نظریے کے خلاف لڑیں گے۔ ہم نے ان کو آج شکست دی ہے، ہم ان کو 2019 میں بھی شکست دیں گے۔ مگر ہم بھارت کو کسی سے آزاد نہیں کرانا چاہتے۔ اگر لوگوں کی سوچ ہم سے مختلف ہے تو ہم اس سوچ سے لڑیں گے۔ ہم انہیں ملک سے مٹانا نہیں چاہتے۔‘برانڈ کنسلٹینٹ ہریش بجور کے مطابق ’راہل گاندھی کے اس بیان میں ان کا سب کو ساتھ لے کرچلنے کا نظریہ صاف ظاہر ہوتا ہے۔ کسی بھی جمہوریت کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ بغیر حزب اختالف کے جمہوریت نہیں ہو سکتی، یہ بات راہل گاندھی سمجھتے ہیں اور یہی ان کے جواب میں ظاہر ہے۔ ان کا یہی رویہ انہیں برانڈ مودی سے جدا کرتا ہے۔‘ہریش بجور کے مطابق ایک ہی طرح کے دو برانڈ بازار میں ایک دوسرے کے ساتھ تبھی مقابلہ کر پاتے ہیں جب دونوں میں بنیادی فرق ہو۔ سال 2019 کے اعتبار سے دیکھیں تو انڈین سیاست میں دو بنیادی فرق والے برانڈ صاف نظر آ رہے ہیں۔انڈیا میں سینیئر صحافی نیرجا چوہدری ہریش بجور کی بات سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتی ہیں۔ لیکن وہ راہل کے بدلے انداز کو پوری طرح خارج بھی نہیں کرتی ہیں۔ان کے مطابق راہل کا برانڈ تب بنے گا جب وہ عوام کی نبض پکڑ لیں گے۔ اس مرتبہ راہل ایسا کرنے میں تھوڑا کامیاب تو ہوئے ہیں۔ انہوں نے رفال ڈیل کی بات کی جس سے عوام زیادہ متاثر نہیں ہوئے۔ لیکن کاشتکاروں کی بات کر کے انہوں نے کاشتکاروں سے تعلق ضرور قائم کر لیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ وہ پہلے سے بہتر ضرور ہوئے ہیں لیکن مودی کی طرح اب تک وہ جملہ بازی نہیں سیکھ پائے ہیں۔
تاہم نیرجا یہ بھی کہتی ہیں کہ راہل کی تازہ جیت نے ان کی اپنی جماعت کے اندر رہنما کے طور پر ان کی حیثیت میں اضافہ ضرور کیا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading