نئی دہلی،9دسمبر(یواین آئی)حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیرکو پیش شہریت (ترمیمی)بل 2019میں سال 2015سے پہلے سےغیر قانونی طورپر ملک میں رہنے والے پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندو،بودھ،جین ،سکھ ،پارسی اور عیسائی طبقوں کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کی تجویز کی گئی ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔اس کے مقاصد اور جوہات میں بتایا گیا ہے کہ بل کے ذریعہ شہریت ایکٹ کی فہرست تین میں ترمیم کرکے ان تینوں ملکوں کے مندرجہ بالا چھ طبقوں کے لوگوں کےلئے مستقل شہریت کی درخواست کی شرائط کو آسان بنایا گیا ہے۔پہلے کم از کم 11سال ملک میں رہنے کے بعد انہیں شہریت کےلئے درخواست کا حق تھا۔اب اس طے مدت کو گھٹا کرپانچ سال کیاجارہا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ 31دسمبر 2014 تک بغیر قانونی دستاویزوں کے ان تین ملکوں سے ہندوستان میں داخل ہونے والے یا اس مدت سے پہلے قانونی طورپر ملک میں داخل ہونے اور دستاویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طورپر یہیں رہنے والے چھ طبقوں کے لوگ شہریت کی درخواست دینے کےاہل ہوں گے۔