شاہین باغ میں سڑک بند ہونے کے معاملے میں مذاکرات کار وجاہت حبیب اللہ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کہا ہے کہ احتجاج پرامن طور پر جاری تھا لیکن پولیس نے پانچ جگہوں پر سڑک بلاک کر دی۔
وجاہت حبیب اللہ نے بیان حلفی میں کہا کہ اگر سڑک بلاک نہ کی جاتی تو ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہتا۔ انہوں نے کہا، ’’پولیس نے غیر ضروری طور پر سڑک بند کری، جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت مظاہرین سے سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے معاملے پر بات کرے۔‘‘ واضح رہے کہ شاہین باغ کے معاملہ پر سپریم کورٹ میں پیر کے روز سماعت ہوگی۔
Wajahat Habibullah, in his affidavit, has stated that the protest in Shaheen Bagh against Citizenship Amendment Act is peaceful; also stated that the police have blocked five points around Shaheen Bagh. https://t.co/QNShH6AoRJ
— ANI (@ANI) February 23, 2020
غورطلب ہے کہ سپریم کورٹ نے شاہین باغ کے مظاہرین سے بات چیت کرنے اور ٹریفک کے مسئلہ کو حل کرنے کے ہلئے سپریم کورٹ کے وکیل سنجے ہیگڈے و سدھانا رام چندرن اور سابق افسر شاہ وجاہت حبیب اللہ کو مقرر کیا ہے۔ مذاکرات کار نے لگاتار چار دن شاہین باغ کا دوراہ کیا اور مظاہرین سے بات چیت کی۔ بات چیت کے بعد ہی سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا گیا ہے۔
تین دن تک سنجے ہیگڑے کے ساتھ جانے کے بعد سادھنا چام چندرن سنیچر کے روز اکیلے شاہین باغ پہنچی تھیں۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ اگر راستہ نہیں کھولا گیا تو وہ مظاہرین کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ احتجاج ختم کرنے کے لئے نہیں کہہ رہی ہیں۔
دریں اثنا، جب مظاہرین نے کہا کہ راستہ کھولنے کے بعد ان کو تحفظ کون دیگا تو انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کے نمائندہ کے طور پر یہاں نہیں آئیں، سپریم کورٹ سے ضرور وہ کہیں گی کہ مظاہرین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ سدھنا نے کہا کہ آپ کو ایک پارک دیا جائے گا، جہاں آپ مظاہرہ جاری رکھ سکتی ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو