حیدرآباد10جولائی(یواین آئی)تلنگانہ سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے انہدام کے دوران احاطہ سکریٹریٹ میں موجود دو مساجد اور ایک مندر کی عمارتوں کو پہنچے نقصان پر وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ نے دُکھ و افسوس کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ سکریٹریٹ کے احاطے میں ہی فی الحال موجود مندر و مسجد کی عمارتوں سے کہیں زیادہ بہترین و عالیشان مندر و مسجد کی عمارتیں ریاستی حکومت کی جانب سے مکمل سرکاری خرچ پر تعمیر کی جائیں گی۔
وزیراعلی نے کہا ”سکریٹریٹ کی جدید عمارت کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے قدیم عمارتوں کو منہدم کیا جارہا ہے۔ اس انہدامی کاروائی کے دوران وہاں موجود مندر اور مساجد کی عمارتوں پر دیگر زیر انہدام ہمہ منزلہ عمارتوں کا ملبہ گر پڑنے کی وجہ سے اُنہیں پہنچے نقصان سے متعلق مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے جس کا مجھے افسوس ہے۔ وزیراعلی نے اسے ایک تکلیف دہ امر قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں اپنی جانب سے فکرمندی کا اظہار کیااور واضح کیا کہ حکومت قدیم عمارتوں کی جگہ سکریٹریٹ کی جدید عمارت کی تعمیر کا ارادہ ضرور رکھتی ہے لیکن مساجد اور مندر کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اس موقع پر وزیراعلی نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں ہی حکومت کی جانب سے چاہے جتنی بڑی رقم ہی کیوں نہ درکار ہو اُسے منظور کرتے ہوئے مکمل سرکاری خرچ پر ان عباد ت گاہوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔
حکومت ان مذہبی عمارتوں کی تعمیر موجودہ رقبہ سے بھی کہیں زیادہ وسیع رقبہ پر کرے گی۔بہت جلد میں از خود مندر اور مسجد کے منتظمین سے اس خصوص میں ملاقات کروں گااور ان کی مشاورت سے ان عبادتگاہوں کے تعمیری منصوبہ پر عاجلانہ عمل کرتے ہوئے ان نو تعمیر شدہ مذہبی عبادت گاہوں کو ان کے منتظمین کے حوالے کردیا جائے گا“۔انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ ایک سیکولر ریاست ہے اور ہر حال میں سیکولرازم کی اس روح کو برقرار رکھاجائے گا۔یہ ایک غیر متوقع حادثہ تھا۔وزیراعلی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو بغیر کسی بدگمانی کے اس بات کو سمجھنا چاہئے۔