سنکیانگ چین میں جاری مسلمانوں اور اقلیتوں کیساتھ بدسلوکیوں کے جواب میں امریکہ کی جانب سے چینی عہدیداران پر پابندیوں اور ویزے کی بندشوں کا اعلان : وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

امریکہ : 9 جولائی 2020. چین سنکیانگ میں ویغور، قازق النسل باشندوں اور دوسرے اقلیتی گروہوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ہدف بنا رہا ہے جن میں جبری مشقت، وسیع پیمانے پر ناجائز گرفتاریاں، آبادی میں اضافے کو جبراً روکنا اور ان کی ثقافت اور مسلم عقیدے کو ختم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس صورتحال پر امریکہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔

میں مالی سال 2020 میں دفتر خارجہ کی بیرون ملک کارروائیوں اور متعلقہ پروگراموں سے متعلق مدبندی کے قانون کے سیکشن 7031 (سی) کے تحت چین کے تین اعلیٰ سطحی حکام کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں میں ان کے کردار پر پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہوں۔ ان میں سنکیانگ ویغور خودمختار خطے (ایکس یو اے آر) میں پارٹی کے سیکرٹری شن کوآنگ او، سنکیانگ سیاسی و قانونی کمیٹی (ایس پی ایل سی) کے پارٹی سیکرٹری ژو ہی لن اور سنکیانگ میں عوامی سلامتی کے دفتر (ایکس پی ایس بی) کے پارٹی سیکرٹری وانگ منگ شان شامل ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں یہ حکام اور ان کے قریبی اہلخانہ امریکہ میں داخلے کے اہل نہیں رہے۔

میں مہاجرت اور قومیت کے قانون کے سیکشن 212 (اے) (3) (سی) کے تحت اکتوبر 2019 میں اعلان کردہ پالیسی کی مطابقت سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے دیگر حکام پر بھی ویزےکی اضافی پابندیاں نافذ کر رہا ہوں جنہیں سنکیانگ میں ویغور، قازق النسل باشندوں اور دوسرے اقلیتی گروہوں کے ارکان کی ناجائز حراست یا ان سے بدسلوکی کا ذمہ دار یا ایسے اقدامات کے لیے ملی بھگت میں ملوث سمجھا جاتا ہے۔ ان کے اہلخانہ بھی ان پابندیوں کا ہدف ہو سکتے ہیں۔

یہ نامزدگیاں اور ویزے کی پابندیاں آج امریکی محکمہ خزانہ کے اعلان کی تکمیل کرتی ہیں جو ایکس پی ایس بی اور عوامی جمہوریہ چین کے چار موجودہ یا سابق حکام کو پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ ان میں شین کوآنگ او، ژو ہی لین، وانگ منگ شان اور ہو لیوجن شامل ہیں۔

یہ چاروں حکام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ یہ نامزدگیاں انتظامی حکم 13818 سے مطابقت رکھتی ہے جس کی رو سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی یا بدعنوانی میں ملوث افراد کی جائیداد ضبط کر لی جاتی ہے۔ یہ انتظامی حکم انسانی حقوق بارے جوابدہی سے متعلق عالمگیر میگنیٹسکی قانون کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔ شین نے سنکیانگ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی جابرانہ مہم کو تیز کرنے سے پہلے تبت کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف وزیوں کے عمل کی نگرانی کی اور اس دوران بہت سے ایسے ہولناک اقدامات اور پالیسیوں سے کام لیا جن کا آج سی سی پی کے حکام سنکیانگ میں اطلاق کر رہے ہیں۔

آج امریکہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی ہولناک اور منظم خلاف ورزیوں پر یہ کارروائی کر رہا ہے اور انسانی حقوق و بنیادی آزادیوں پر چینی کمیونسٹ پارٹی کے حملوں سے متعلق ہمارے خدشات سے اتفاق کرنے والے تمام ممالک سے کہتا ہے کہ وہ اس طرزعمل کی مذمت میں ہمارا ساتھ دیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading