سلطان المشائخ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء محبوب الہیؒ اوراُن کے ارشادات

ولادت 27؍صفر 636ھ میں بروز چہارشنبہ بعد طلوع آفتاب بمقام بدایون ہوئی حضرت سلطان المشائخ کے والد اور والدہ دونوں حضرت امام حسین ؓ کی اولاد سے تھے جب حضرت کی عمر پانچ سال تھی کہ والدماجد حضرت سید احمد ؒ کی وفات ہوگئی والدہ نے حضرت کو تعلیم کے لئے مدرسہ بھیجاجہاں آپ نے قرآن مجید ختم کیا اس کے بعد اکابرعلماء سے علوم دینیہ تفسیر وحدیث وفقہ وسبعہ قرأت کی تحصیل کی اور تصوف وطریقت کی کئی کتابیں اپنے شیخ خواجہ فرید صاحب سے پڑھیں حضرت محبوب الہیٰ اتنے بڑے عالم تھے کہ اپنے زمانے کے بلندپایہ علماء کے امام مانے جاتے تھے دینی علوم سے فراغت کے بعد حضرت خواجہ فرید صاحب سے بیس سال کی عمر میں بیعت وخلافت حاصل کئے حضرت شیخ فریدالدین گنج شکر نے فرمایا ’’ اے نظام الدین میں چاہتا تھا کہ ہندوستان کی ولایت (خلافت خاص)کسی دوسرے شخص کو دوں مگر تم راستے میں تھے مجھ کو غیب سے نداآئی ’’ٹھیرونظام الدین بدایوونی ؒ آتے ہیں یہ انہیں کا حصہ ہے انہیں کودینا وہی اس ولایت (خلافت)کے لائق ہیں۔حضرت محبوب الہیٰ کی عبادت کا یہ حال تھا کہ جوانی کے زمانے میں مکمل تیس سال سخت ترین مجاہدہ فرمایا بعد کی زندگی بھی نہایت سخت مجاہدات میں گذاری اور یہ مجاہدات پہلے سے بھی زیادہ سخت تھے۔اسی سال کی عمر میں بھی پانچوں نمازیں باجماعت ادافرماتے اور اس عمر میں بھی ہمیشہ روزہ سے رہتے روزانہ ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے نماز اشراق وچاشت کے بعد سلوک وطریقت کا درس دیتے اور بعد نماز ظہر حدیث کی کتابوں کا درس ہوتا رات بھر عبادت میں مشغول رہتے حضرت کی خانقاہ میں روزانہ تین ہزار فقراء مساکین کھانا کھاتے فقراء ومساکین کی مالی امداد فرماتے حضرت کی تبلیغ سے بے شمار کفار اسلام قبول کئے حضرت نے اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنے کئی خلفاء کو ہندوستان کے مختلف مقامات کی طرف روانہ فرمایا بڑے بڑے بادشاہ حضرت کی زیارت وقدمبوسی کی تمناکیاکرتے حضرت کے دور میں دہلی کے سات بادشاہ گذرے ان میں سے تقریباً تمام حضرت کے بے حد معتقد تھے محققین نے فرمایا ہے کہ حضرت نظام الدین محبوب الہی نے جوکام کیا ہے تاریخ عالم میں اسکی مثال نہیں ملتی صاحب بحرالمعانی تحریر فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت خضرؑ نے بتایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اور حضرت شیخ نظام الدین بدایونی ؒ مرتبہ محبوبی اور مقام معشوقی میں ہیں حضرت سید غوث علی شاہ پانی پتی ؒ فرماتے ہیں کہ دینی ودنیاوی درجات جب تک اللہ تعالی عطانہ فرمائے اپنی کوشش سے حاصل نہیں ہوتے ہزارہااولیااللہ سینکڑوں غوث وقطب گذرے لیکن اللہ نے مرتبہ محبوب سبحانی غوث اعظم شیخ محی الدین عبدالقادرجیلانی ؒ کو عطافرمایا ۔حضرت کی کئی تصانیف بھی ہیں چندارشادات یہ ہیں حضرت نے فرمایا اصل کام اللہ کاذکر ہے اوراس کے سواء جوکچھ ہے یادحق کامانع ہے۔(ذکراللہ سے روکنے والا ہے)درویش کی اصل زندگی یہ ہے کہ وہ اللہ کے ذکرمیں مشغول رہے۔ ہر ایک کاظلم برداشت کرنا چاہئیے اس کا بدلہ لینے کی نیت بھی نہ کرنا چاہئیے،(کیوں کہ یہ)صدیقین (انتہائی درجہ کے کامل اولیا ء اللہ)کاکام ہے۔ اسباب دنیا کو جمع نہیں کرنا چاہئیے سوائے ان کے جو بہت ضروری ہوں(جیسے مکان، لباس وغیرہ)ان کے علاوہ جوبھی چیزیں آئیں ان کو خرچ کیا جائے جمع نہ کیا جائے۔جس کو دیکھوخود (اپنے آپ)سے بہتر تصورکرواگرچہ تم خوداطاعت وعبادت کرنے والے ہواور دوسراگناہ گاراسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ تمہاری یہ اطاعت آخری اطاعت ہواور اس کے بعد تم سے گناہ سرزد ہوجائے اور دوسرے کا گناہ آخری گناہ ہواور اسکے بعد اس سے اطاعت عمل میں آئے (یہ بطورعاجزی کے ہے)اور فرمایا آدمی کا ایمان اسوقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس کی نظر میں تمام مخلوق مچھرسے بھی کم حقیقت معلوم نہ ہو۔یعنی دل میں صرف اللہ کا خوف اس کی تعظیم ہونا چاہئے، مخلوق کا خوف دل میں نہ ہونا چاہئے، اور فرمایا جوشخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے دل میں دنیا کی محبت بھی ہوتو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے۔ صبریہ ہے کہ جب بندہ کسی ناگوار صورت حال سے دوچارہوتوبرادشت کرے اور کسی سے شکایت نہ کرے اور رضاء یہ ہے کہ جب کوئی بندہ کسی ناگوار صورت حال سے دوچار ہوتواس کو ناگواری اور تکلیف کا احساس بالکل نہ ہوگویاوہ بلااس تک پہنچی ہی نہیں۔ اور فرمایایاحی یاقیوم اسم اعظم ہے،حضرت سلطان المشائخ 18؍ربیع الثانی بروز شنبہ725ھ میں بعد طلوع آفتاب بعمر 89سال وصال فرمائے مولانارکن الدین ملتانی ؒ نے نماز جنازہ پڑھائی پھرقبرشریف میں رکھا اور بے ہوش ہوگئے۔جب ہوش میں آئے تو بے ہوشی کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا کہ اس وقت حضرت رسول اکرم ﷺنے تشریف لاکر محبوب الہی کو کنارمحبت میں لے لیامجھے نورنبوت کے مشاہدہ کی طاقت نہ تھی اسلئے بے ہوش ہوگیا۔
(نوٹ یہ مضمون مزرعتہ الآخرہ جلددوم مولفہ سید محمد عبدالقادر جیلانی حیدر آباد
مُرسلہ:محمدرفیع الدین صدیقی انجینئر‘اورنگ آباد۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading