ناندیڑ / پربھنی :(ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر میں اجیت پوار کی قیادت والی راشٹروادی کانگریس پارٹی (این سی پی) کو اس وقت زبردست سیاسی دھچکا لگا جب پربھنی میں مسلم اتحاد المسلمین مہاراشٹر کے سابق نائب صدر سید معین نے ایک جوشیلی تقریر کے دوران بے باک انداز میں این سی پی میں شامل ہونے والے مسلم رہنماوں پر شدید تنقید کی۔اپنی تقریر میں سید معین نے اجیت پوار گروپ کی پالیسیوں پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ این سی پی کے سابقہ دور اقتدار میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں سڑنے پر مجبور کیا گیا۔ انھوں نے خاص طور پر این سی پی کے رکن اسمبلی سنگرام جگتاپ کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے کھلے عام مسلمانوں کو گالی گلوج کی اور توہین آمیز زبان استعمال کی، مگر پارٹی قیادت نے ا±ن پر کوئی کارروائی نہیں کی۔یہ بیان ریاست بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کا باعث بنا، اور اب اس کا اثر سیاسی سطح پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مسلم طبقے میں این سی پی (اجیت پوار گروپ) کے خلاف ناراضگی کی لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، اور پارٹی سے مسلم عہدیداران کے استعفوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
ناندیڑ سے پہلا بڑا جھٹکا:ناندیڑ ضلع کے اقلیتی سیل کے صدر مقصود پٹیل لوہگاوںکر نے پارٹی میں جاری مسلم مخالف سرگرمیوں کو بنیاد بنا کراجیت پوار گروپ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں مسلمانوں کے مفادات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، اور پارٹی میں ایسے عناصر کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے جو مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں۔
بیڑ سے بھی استعفیٰ:اسی طرح بیڑ ضلع سے تعلق رکھنے والے سابقہ کونسلر اور این سی پی مہاراشٹر پردیش کے نائب صدرشیخ امر زین الدین نے بھی پارٹی کی پالیسیوں سے ناراض ہو کر استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ براہ راست مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو روانہ کیا ہے۔
پارٹی کے اندر ہلچل:یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا، ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے کئی این سی پی لیڈران اور کارکنان شدید ناراض ہیں اور وہ جلد ہی اپنے استعفے پیش کر سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر این سی پی قیادت نے جلد اس معاملے پر سنجیدگی نہیں دکھائی تو یہ پارٹی کے اقلیتی ووٹ بینک کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ سید معین کی تقریر نے جس بحث کی شروعات کی ہے، اس کا اثر مہاراشٹر کی سیاست پر ضرور پڑے گا۔ ایسے وقت میں جب اسمبلی انتخابات قریب ہیں، اقلیتی طبقے کی ناراضگی اجیت پوار گروپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔