MPCC Urdu News1. 5 August 25

عدلیہ میں بھی بی جے پی کی راست انٹری

بی جے پی کی خاتون ترجمان ہائی کورٹ کی جج مقرر، عدلیہ کی غیرجانبداری خطرے میں: ہرش وردھن سپکال

ممبئی: ملک کے جمہوری نظام کے چار ستونوں میں عدلیہ ایک نہایت اہم ستون تصور کی جاتی ہے، جس پر آج بھی عام شہریوں کا اعتماد برقرار ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران پیش آئے واقعات نے عدلیہ پر سے اس بھروسے کو متزلزل کر دیا ہے۔ اور اب جبکہ عدالتی عہدوں پر بھی برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے عہدیداران کی تقرریاں کی جا رہی ہیں، تو اس پر سوالات اٹھنا لازمی ہیں۔ یہ طرزِ عمل جمہوریت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ سخت موقف مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے اختیار کیا ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ حال ہی میں جس ایڈوکیٹ آرتی ارون ساٹھے کو بمبئی ہائی کورٹ کی جج کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، وہ بی جے پی مہاراشٹر کی سرکاری ترجمان رہ چکی ہیں۔ 2 فروری 2023 کو بی جے پی کے اس وقت کے ریاستی صدر چندرشیکھر باونکولے نے ترجمانوں کی جو فہرست جاری کی تھی، اس میں آرتی ساٹھے کا نام بھی شامل تھا۔ اگر کسی سیاسی جماعت کی فعال عہدیدار کو براہ راست عدالتی عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے تو پھر ان کے فیصلوں کی غیرجانبداری پر سوالات ضرور اٹھیں گے۔ ایسی تقرریاں جمہوریت کے گلے پر چھری چلانے کے مترادف ہیں اور یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور تشویشناک صورت حال ہے۔

کانگریس صدر نے مزید کہا کہ 2014 سے ملک میں جمہوریت اور آئین کو مسلسل نظر انداز کر کے حکومت چلائی جا رہی ہے۔ بیشتر خودمختار ادارے حکومت کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں اور سرکاری احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ اس میں اب الیکشن کمیشن کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ سنگین اور افسوسناک صورتحال عدلیہ کی بنتی جا رہی ہے۔ گزشتہ 11 برسوں کے دوران عدلیہ کی جانب سے دیے گئے متعدد اہم فیصلوں پر عوامی اعتماد کمزور پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت کی تنسیخ کا مسئلہ ہو یا چین کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان کے اٹھائے گئے سوالات، ان پر عدالت کی جانب سے تبصرہ کرنا نہ صرف باعثِ تشویش ہے بلکہ انتہائی قابلِ اعتراض بھی ہے۔ اگر اپوزیشن بھی حکومت سے سوال نہیں پوچھ سکتی تو پھر سوال کرنے کا حق کس کے پاس ہے؟ یہ طے کرنا کہ کون محبِ وطن ہے، نہ تو عدالتوں کا کام ہے اور نہ ہی جج حضرات کا۔

سپکال نے کہا کہ عدلیہ کے اعلیٰ عہدوں سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد ان ججوں کو ریاستوں کا گورنر، راجیہ سبھا کا رکن، کسی ملک کا سفیر یا کسی اہم ادارے کا سربراہ مقرر کر دینا جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ غلط مثال قائم کر رہا ہے اور جمہوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

MPCC Urdu News1. 5 August 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading