دہلی فساد معاملہ: پولیس کاہائی کورٹ کے آرڈرکا حوالہ دیکراسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کو ایف آئی آرکی کاپی دینے سے انکار

نئی دہلی،7اکتوبر(یو این آئی) دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے گزشتہ میٹنگ میں پرنسپل سیکریٹری ہوم کو فساد سے منسلک تمام 754ایف آئی آر فراہم کرنے کے لیئے کہاتھا تاہم پولیس ان تمام ایف آئی آر کو حساس بتاکر کمیٹی کو فراہم کرنے سے بچ رہی ہے۔یہ بات آج یہاں جاری ریلیز میں کہی گئی ہے۔
ریلیز کے مطابق آج میٹنگ میں پرنسپل سیکریٹری ہوم نے پولیس کی جانب سے پیش کئے گئے جواز کو کمیٹی کے سامنے رکھا جس میں 2011کے ہائی کورٹ کے آرڈر کا حوالہ دیکر ایسی ایف آئی آر کو فراہم نہ کرنے کا جواز تلاش کیا گیاہے۔اس کے علاوہ گزشتہ میٹنگ میں جو پانچ ایف آئی آر ایک جیسی پائی گئیں تھیں ان کے بارے میں پولیس نے کوئی واضح جواب نہ دیتے ہوئے یہی کہاکہ پٹرولنگ کے دوران پولیس کو وہ مطلوبہ شخص ملے جن کے خلاف ایف آئی آر کی گئی ہے اور اگر کسی کے خلاف غلط ایف آئی آر ہوئی ہے تو وہ عدالت میں اسے چیلنج کرسکتا ہے۔گزشتہ میٹنگ میں افسران کے سامنے کچھ ایسے ویڈیو چلائے گئے تھے جن میں کچھ لوگ فساد کرتے ہوئے صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔کمیٹی نے پولیس سے معلومات طلب کی تھی کہ ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔پولیس کی جانب سے ہوم سیکریٹری کے توسط سے کمیٹی کو جواب موصول ہوا ہے کہ کل سات ویڈیو میں سے 3میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جبکہ باقی ویڈیو کا ابھی تجزیہ کیا جارہاہے۔آج کمیٹی کے سامنے دو ویڈیواور چلائے گئے جن میں ایک میں ایک گودام کو لوٹا جارہاتھا جبکہ دوسرے ویڈیو میں راگنی تیواری نامی عورت پولیس والوں کے سامنے بھیڑ کو بھڑکانے کاکام کر رہی تھی۔متعلقہ ویڈیو میں یہ عورت اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے اور پولیس والوں کو گالیاں دیتے ہوئے صاف طور پر سنی جاسکتی ہے۔اس سے متعلق پرنسپل سیکریٹری ہوم نے اگلی میٹنگ میں رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی
ریلیز کے مطابق دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے فسادات میں متاثرین تک انصاف کی رسائی کو یقینی بنانے اور جو لوگ معاوضہ سے محروم رہ گئے ہیں ان تک معاوضہ پہونچانے کے لیئے دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔اس سلسلہ میں کمیٹی کی اب تک کئی میٹنگیں ہوچکی ہیں جن میں متاثرین تک معاوضہ کی عدم فراہمی اور گنہگاروں کے خلاف ایف آئی آرنہ ہونے جیسی کئی بڑی خامیاں سامنے آئی ہیں جن پر کمیٹی یکے بعد دیگرے کام کر رہی ہے اور متعلقہ افسران کو طلب کرکے خامیوں کی نہ صرف نشاندہی کی جارہی ہے بلکہ افسران سے ان خامیوں کو جلد از جلد دور کرکے متاثرین تک انصاف کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیئے بھی کہا جارہاہے۔کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان کی صدارت میں آج ہونے والی میٹنگ میں چاندنی چوک سے رکن اسمبلی پرہلاد سنگھ ساہنی،سیلم پور سے عبد الرحمن،مصطفی آباد سے حاجی یونس نے شرکت کی جبکہ پرنسپل سیکریٹری ہوم،ہیلتھ سیکریٹری اور شمال مشرقی علاقہ کے متعلقہ ایس ڈی ایم اور ڈی ایم کے علاوہ دہلی وقف بورڈ کے افسران میں سے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد،ویلفیئرسیکشن انچارج فیروز،آئی ٹی انچارج محمد عمران،اور لیگل اسسٹنٹ احسن جمال بھی میٹنگ میں موجود رہے۔میٹنگ کی شروعات میں ہی سب سے پہلے ایسے میڈیکل کیسوں پر بحث ہوئی جن میں چوٹ کافی بڑی ہے مگر میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹروں نے معمولی زمرہ میں کیس ڈال دیا جسکی وجہ سے نہ ہی حکومت کی جانب سے طے شدہ معاوضہ ملا اور نہ ہی متعلقہ میڈیکل سرٹیفکیٹ۔میٹنگ میں ہیلتھ سیکریٹری صاحبہ کے سامنے کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے توفیق،ماسٹر سلمان،ذاکر انصاری،فیروز اختر اور اکرم کے کیس رکھتے ہوئے بتایاکہ ان سب کو بڑی انجری آئی ہے اور کچھ ان میں سے معذور ہوگئے ہیں تاہم پھر بھی ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے ان کی میڈیکل رپورٹ میں معمولی چوٹ کا ذکر کیا گیاہے۔مصطفی آباد کے اکرم نامی شخص کو میٹنگ میں کمیٹی کے سامنے پیش بھی کیا گیا جسکے ایک ہاتھ کو ڈاکٹروں نے کاٹ دیااور دوسرے ہاتھ کی انگلی کاٹ دی مگر میڈیکل رپورٹ میں اسے معمولی زخمی کی فہرست میں رکھا گیا ہے اور صرف 20ہزار روپیہ معاوضہ دیا گیاہے۔ہیلتھ سیکریٹری نے ایسے تمام کیسوں کی دوبارہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔
میٹنگ کے دوران دہلی وقف بورڈ کی جانب سے رد ہوئے کیسوں کی ویری فکیشن کے بعد دوبارہ پیش کی گئی لسٹ پر بھی بحث ہوئی جن میں سے 54پر کام ہورہاہے جنھیں جلد ہی معاوضہ مل جائے گا۔میٹنگ کے دوران کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے افسران سے اس پورے معاملہ میں سنجیدگی اور تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہاکہ متاثرین دوہری مار کا شکارہیں۔ایک تو انھیں فساد میں لوٹا اور برباد کردیا گیا اور اب وہ معاوضہ کے لیئے دربدر بھٹک رہے ہیں اس لیئے آپ لوگ انسانیت کے ناطے سنجیدہ ہوکر کام کریں اور متاثرین تک انصاف کی رسائی کو یقینی بنائیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading