نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے دہشت گردوں سے ساز باز کے الزام میں جموں و کشمیر پولیس سے معطل ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کے معاملے کی جانچ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو سونپے جانے پر اعتراض کیا ہے۔ راہل گاندھی نے شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملزم سے راز اگلوانے کے بجائے اسے خاموش کرنے کی کوشش ہے۔
راہل گاندھی نے آج اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا’’دہشت گر ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کو خاموش کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے کہ معاملے کی جانچ این آئی اے کو سوپنا۔این آئی اے کے سربراہ ایک دیگر مودی – وائی کے (مودی ) ہیں۔ جنہوں نے گجرات فساد اور ہیرین پانڈیا قتل معاملوں کی جانچ کی تھی۔ وائی کے کی نگرانی میں یہ معاملہ جیسے ختم ہو جائے گا۔
آگے انہوں نے ہیش ٹیگ کیا ہے- دہشت گرد دیویندر کو کون خاموش کرنا چاہتا ہے؟
The best way to silence Terrorist DSP Davinder, is to hand the case to the NIA.
The NIA is headed by another Modi – YK, who investigated the Gujarat Riots & Haren Pandya’s assassination. In YK’s care, the case is as good as dead. #WhoWantsTerroristDavinderSilenced
And why??
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) January 17, 2020
واضح رہے کہ دیویندر سنگھ کو 11جنوری کو حذب المجاہدین کے دو مطلوب دہشت گردوں کے ساتھ گرفتار کیاتھا۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق حکومت نے اس معاملے کی جانچ این آئی اے کو سونپ دی ہے۔
DSP Davinder Singh sheltered 3 terrorists with blood on their hands at his home & was caught ferrying them to Delhi.
He must be tried by a fast track court within 6 months & if guilty, given the harshest possible sentence for treason against .#TerroristDavinderCoverUp pic.twitter.com/gc2BlhBOwM
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) January 16, 2020
راہل گاندھی اس سے پہلے بھی اس معاملہ پر ٹوئٹ کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا تھا، ’’ڈی ایس پی داویندر سنگھ نے ایسے 3 دہشت گردوں کو اپنی پناہ میں رکھا جن کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا ہے اور انہیں دہلی لے جانے کے دوران پکڑا گیا۔ اس پر 6 ماہ کے اندر فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ مقدمہ چلایا جانا چاہئے اور اگر وہ قصوروار پایا جاتا ہے تو اس کو غداری کے لئے سخت ترین سزا دی جانی چاہئے۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو