نئی دہلی : کانگریس پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مودی حکومت لوک سبھا انتخابات میں حاصل ہونے والے خط اعتماد کا ناجائز استعمال کر رہی ہے اور اس نے جمہوریت کو انتہائی سنگین بحران کے دور میں لا کھڑا کیا ہے۔
کانگریس نے جمعہ کو ٹویٹر پر پارٹی صدر سونیا گاندھی کے حوالہ سے ٹویٹ کیا’’ ہماری جمہوریت کبھی اتنے سنگین بحران سے نہیں گزری ہے ۔لوک سبھا کے 2019کے انتخابات میں ملی واضح اکثریت کا ناجائز استعمال ہورہا ہے اور خطرناک طریقہ سے جمہوریت سے کھلواڑ کیاجارہاہے ۔‘‘
Democracy has never been at greater peril than it is now. The mandate of 2019 is now being mis-used and abused in a most dangerous fashion: Congress President Smt. Sonia Gandhi. pic.twitter.com/wCq6IOmnzs
— Congress (@INCIndia) September 13, 2019
اس کے ساتھ ہی پارٹی نے گاندھی کی تقریر کے دوران تصویر کےساتھ ایک پوسٹر بھی پوسٹ کیاہے جس میں لکھاہے ’’ ملک ان طاقتوں کو روکنے کے لیے ہماری طرف امیدکی نگاہوں سے دیکھ رہاہے ۔یہ طاقتیں گاندھی جی ،سردار پٹیل اور ڈاکڑ بی آر امبیڈکر کو اپنے نظریہ سے جوڑ نے کی کوشش کرکے اپنے مفادمیں ان کے پیغامات کو غلط طریقہ سے پیش کررہی ہیں ۔‘‘
قبل ازیں، گزشتہ روز کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں پائی جانے والی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نقصانات میں اضافہ ہورہا ہے اور عوام کا عام اعتمادبھی متزلزل ہو گیا ہے۔ حکومت ’انتقامی سیاست‘ میں ملوث ہورہی ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی جس کا مقصد معاشی محاذ پر بڑھتے ہوئے نقصانات سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔
صدر کانگریس نے حکومت پر مہاتما گاندھی، سردار ولبھ بھائی پٹیل اوربی آر امبیڈکر جیسے مجاہدین آزادی کے ورثہ کو غصب کرنے کا الزام لگایا۔ سونیاگاندھی نے کہا کہ بی جے پی ان مجاہدین آزادی کے حقیقی پیامات کو ’غلط طور پر پیش کررہی ہے‘ جس کا مقصد اس کے ’مذموم ایجنڈہ‘ کو تقویت پہنچانا ہے۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے معیشت کی خراب صورتحال پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ہم خطرناک طور پرطویل سست روی کے درمیان ہے اورمعیشت بد سے بدتر ہونے جارہی ہے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ حکومت اس بات کو محسوس نہیں کررہی ہے اور روزگار کے شعبوں میں بدترین صورتحال واقع ہوسکتی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
