تجزیہ خبر: آئندہ پارلیمانی انتخابات : مسلمانوں کا دوست کون۔۔۔۔؟؟؟

سعیدپٹیل جلگاؤں

سال رواں کے چوتھے مہینہ یعنی اپریل دو ہزار انیس تک ملک میں پارلیمانی عام انتخابات ہونے کاامکان ہے۔اسی طرح مہاراشٹر اسمبلی کے انتخاب بھی پارلیمانی انتخابات کےساتھ کرائے جاسکتے ہیں۔اس پس منظر میں ملک میں سیاسی پارٹیاں کام سے لگ گئی ہیں۔

اترپردیش میں سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی نے ریاست میں پارلیمانی چناؤ کےلئے اتحاد کرکے کانگریس سےآگے نکلنے کی بھرپور کوشش کی۔جبکہ اترپردیش میں کانگریس ان دونوں کے اتحاد سے یقینی طورپر پریشان ہوں گی۔کیونکہ ریاست کے سیکولر ووٹوں پر ان دونوں کے اتحاد نے اپنا دعوی کردیا ہے۔ اتحاد کے موقع پر بہار کے قدآور نیتا لالو پرساد یادو کے بیٹے تجسوی یادو بھی موجود تھے۔اس کے بعد کانگریس نے بھی اترپردیش کی تمام اَسی نشستوں پر چناؤ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔یعنی ریاست میں مہاگٹھ بندھن نہیں ہے۔

اسی طرح مہاراشٹر میں پارلیمانی چناؤ کےلئے کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کے درمیان میں چناوی اتحاد ہوگیاہے۔جبکہ جن ووٹوں پر کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کی جیت کادارومدار ہے۔انھیں ووٹوں پر ونچیت اگھاڑی بھی پارلیمانی انتخابات کے میدان میں ہوں گی۔لیکن حال ہی میں کولکتہ میں ترنمل کانگریس کی صدر ممتابنرجی نے مخالف پارٹیوں کا عظيم الشان اجلاس منعقد کرکے مہا آگھاڑی کی طاقت کا مظاہرہ کیا۔گذشتہ مہینہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی کے چناؤ ہوۓ لیکن کانگریس بی ایس پی کو اپنے ساتھ نہیں لے سکیں۔اسی لۓ شاید اترپردیش میں پارلیمانی نشستوں کی تقسیم میں بی ایس پی نے ایس پی سے ہاتھ ملالیا۔جوکہ کانگریس کےلئے بہت بڑا جھٹکا ہے۔؟دوسری جانب ممتا بنرجی کی مہاآگھاڑی کی مہاریلی میں مخالفین کی ریلی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔لیکن بیس سے زاید پارٹیوں نے اس میں شرکت کرکے اتحاد کا شاندار مظاہرہ کیا۔اس مہا اگھاڑی کے اجلاس کو دیکھ کر یقنی طور پر برسراقتدار بی جے پی خوف زدہ ہوں گی۔لیکن ان تمام اتھل پتھل کے دوران مسلم سیاست سے سب نے پرہیز کیا۔

جیسے مایاوتی کی بی ایس پی اور سماجوادی کے اکھلیش یادو نے مسلم سیاست کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔؟ اس کامطلب یہ نکالا جاسکتاہےکہ اترپردیش میں سیکولر ووٹوں کے سامنے تیسری سب سے بڑی پارٹی کے طور پرہوں گی اور ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کوہوں گا۔اسی طرح مہاراشٹر میں بھی سیکولر ووٹروں کے سامنے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ونچیت اگھاڑی ہوں گی۔جس کی وجہ سے سیکولر ووٹوں کی تقسيم ہونا طۓ ہیں۔جبکہ مخالفین کا چناوی ایجنڈا یہ ہےکہ جوریاست میں جو طاقتور ہیں اس نے بی جے پی کے خلاف چناؤ لڑنا ہے۔پارلیمانی چناؤ کیا ہوں گے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا۔فی الحال ہم سب بالخصوص مسلم سیاستدان یا مسلم ووٹر ممتابنرجی کے عظیم اتحاد کے عظیم مظاہرے سے امید کرسکتے ہیں کہ انھوں نے مخالف سیاست میں زبردست بازی ماری۔ابھی تک کے سیاسی منظر نامے میں کسی بھی پارٹی کی مسلم دوستی کا مظاہرہ دیکھنے کونہیں ملا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading