بھیونڈی میں پینے کے پانی کابحران لیکن کارپوریشن ہر روز بہا رہی ہے سڑکوں پر لاکھوں لیٹر پانی

بھیونڈی ( شارف انصاری):- اس سال کم بارش کی وجہ سے بھیونڈی سے پینے کے پانی کی فراہمی کے اداروں نے پہلے سے ہی 14 فیصد پانی کی کٹوتی کا اعلان کردیا ہے۔ بھیونڈی شہر کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران شروع ہو گیا ہے۔ بہت جگہ پر لوگ خرید کر پانی پینے پر مجبور ہے۔ وہیں بھیونڈی کارپوریشن کلیان روڈ پر ہر روز ٹینکروں سے سڑک پر لاکھوں لیٹر پانی سڑک پر ڈالنے کا کام شروع کیا ہے۔ جس پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے این پی سی لیڈر پروین پاٹل نے میونسپل کارپوریشن پر پانی ضائع کرنے کا سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ عوام کو پانی پینے کے لئے نہیں مل رہا ہے۔حکومت کی جانب سے پانی کے بحران کا اعلان کیا جا رہا ہے اور کارپوریشن خود پانی بچانے کے لئے مہم چلا رہی ہے۔ اس کے باوجود کارپوریشن انتظامیہ بھیونڈی – کلیان روڈ پر روزانہ دونوں وقت پانی کے ٹینکروں سے سڑک پر پانی ڈال کر روزانہ لاکھوں لیٹر پانی ضائع کر رہی ہے۔ جس کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ این سی پی لیڈر پروین پاٹل نے کی ہے۔واضح ہو کے اس سال کم برسات ہونے کی وجہ سے اسی مہینے بھیونڈی میونسپل کمشنر نے یہ اعلان کیا ہے کہ بھیونڈی کارپوریشن کے علاقے میں پانی کی فراہمی کرنے والے اداروں نے 14 فیصد پینے کے پانی کی کٹوتی کرنے کی شروعات کی ہے۔اس کے سبب بھیونڈی شہر میں ہفتے کے ہر بدھ کے روز 24 گھنٹے پانی کی سپلائی بند رہے گی اور دوسرے دن جب پانی کی فراہمی شروع ہوگی اس دن پانی کا دباو¿ کم رہے گا۔ کارپوریشن انتظامیہ کے اس اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برسات ختم ہونے کے ٹھیک بعد سے بھیونڈی شہر میں پینے کے پانی کا بحران ابھی سے شروع ہوگیا ہے۔شہریوں کا ماننا ہے کہ موسم گرما کے قریب آتے آتے شہر میں پینے کا پانی بحران اور تیزی سے بڑھنے والا ہے۔ موجودہ اور مستقبل کو دیکھ کر کارپوریشن انتظامیہ نے پانی بچاو¿ مہم کا آغاز کیا ہے۔ شہریوں کو بیدار کرنے کے لئے ہر طرح سے تشہیر کی جا رہی ہے۔وہیں دیکھنے میں آرہا ہے کی بھیونڈی کلیان روڈ پر گزشتہ دیڑھ برس سے فلائی اوور برج کا تعمیراتی کام شروع ہے۔ جس کے سبب شہر کے کلیان ناکہ راجیو گاندھی چوک سے لے کر سائی بابا مندر تک کی سڑک بہت ہی خراب ہوگئی ہے۔ سڑکوں پر گڑھوں کے سبب لوگ برسات میں کیچڑ سے پریشان تھے وہی اب دھول مٹی کے گردوغبار اڑنے سے پریشان ہے۔ شہریوں کی شکایت کے بعد انتظامیہ بیدار ہوا اور اب "نو کی لکڑی نوے کا خرچ” ??کے طرز پر روز کلیان ناکے سے لے کر سائی بابا مندر تک سڑک پر پانی کے ٹینکر سے پانی ڈالنے کا کام شروع کیا گیا ہے تاکہ سڑک پر دھول مٹی نہ اڑے۔ انتظامیہ کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے این سی پی لیڈر پروین پاٹل نے کہا کہ ایک طرف شہر میں پینے کے پانی کا بحران شروع ہو گیا ہے۔ دوسری طرف انتظامیہ سڑک پر لاکھوں لیٹر پانی ڈال کر اپنے ہی مہم کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ایک طرف پانی کی کمی ہونے کے باوجود کارپوریشن انتظامیہ گھرپٹی ٹیکس کے ساتھ پانی پٹی بھی وصول کر شہریوں کے اوپر دوگنا بوجھ ڈال دیا ہے۔ اب اس طرح لا?ھو لیٹر پانی برباد کرنا بالکل بھی عقل مندی نہیں ہے۔ شہرکے بہت سے علاقوں میں اب بھی پانی کی سپلائی نہیں ہے جہاں پانی ابھی بھی ٹینکروں سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف کارپوریشن انتظامیہ اس طرح سے پانی برباد کر رہا ہے۔ اس لئے دوسرا حل انتظامیہ کو ڈھونڈنا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے کتنے دن چلیں گے۔ کارپوریشن کو فوری طور پر پانی کی اس بربادی کو روکنا چاہئے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading