ویرودھونگر، 19 اپریل: ریاست تمل ناڈو کے ضلع ویرودھونگر میں اتوار کے روز ایک پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں زوردار دھماکہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 مزدور ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ کٹّنارپٹی علاقے میں قائم ایک پٹاخہ یونٹ میں دوپہر تقریباً 3 بجے پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ فیکٹری کا بڑا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے احاطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کے ساتھ ساتھ ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کا کام شروع کر دیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 13 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ کئی مزدوروں کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں تیزی لائی جائے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
واضح رہے کہ ویرودھونگر ضلع، خصوصاً سیواکا سی علاقہ، ملک میں پٹاخہ صنعت کا ایک بڑا مرکز مانا جاتا ہے جہاں ماضی میں بھی اس نوعیت کے کئی حادثات پیش آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان حادثات کی بڑی وجہ حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل نہ ہونا اور خطرناک کیمیائی مادّوں کے ساتھ لاپرواہی برتنا ہے۔
حکام نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فیکٹری میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجہ کا پتہ چلایا جا سکے۔