ایران کے سرکاری میڈیا نے پاسداران انقلاب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل ناکہ بندی اور امریکی بحریہ کی غیر قانونی کارروائیوں نے صورت حال کو تبدیل کر دیا ہے اور جب تک ایران سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول اور نگرانی جاری رہے گی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایرانی فوج آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول دوبارہ سنبھال رہی ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی، ایرانی سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی اور سرکاری نشریاتی ادارہ آئی آر آئی بی نے پاسداران انقلاب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اس کی اصل حالت میں واپس لایا جائے گا، جہاں مسلح افواج اس علاقے پر کنٹرول رکھیں گی۔
اس سے قبل کچھ بحری جہازوں کو اس آبی راستے سے گزرتے دیکھا گیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ اس اہم تجارتی راستے سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد کتنی بحری آمدورفت ہوئی ہے۔
ایران کی فوج کے بیان میں امریکہ پر ’بحری قذاقی‘ کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی ’نام نہاد ناکہ بندی‘ سمندری امور پر ڈاکہ ڈالنے‘ کے مترادف ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق جنگی کارروائیوں کے ادارے خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ’پچھلے معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ‘ آبنائے ہرمز کے ذریعے کچھ آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کو محدود اور منظم طریقے سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔
خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مسلسل ناکہ بندی اور غیر قانونی امریکی بحری کارروائیوں نے صورت حال کو تبدیل کر دیا ہے اور جب تک ایران اور ایران سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں ختم نہیں ہو جاتیں، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول اور نگرانی جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر امریکہ نے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی تو وہ آبنائے کو بند کر دے گا۔