رواں سال جنوری کے آخر میں واشنگٹن کی جانب سے تیل کی سپلائی روکے جانے کے بعد، کیوبا کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بقدر ضرورت ایندھن نہیں مل پا رہا ہے۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے ان 3 مہینوں میں وہاں انسانی صورتحال ایک سنگین موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اس دوران برازیل، میکسیکو اور اسپین کی حکومتوں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور صورتحال کو آسان بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔ اسپین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں یہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز تینوں حکومتوں نے متعلقہ فریقین سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس سے لوگوں کے حالات زندگی مزید خراب ہوں یا جس سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیوبا کے عوام کی تکلیفوں کو کم کرنے کے لیے ایک مربوط انداز میں اپنی انسانی امداد بڑھانے کا بھی عزم کیا۔
اپنے بیان میں برازیل، اسپین اور میکسیکو نے ہر لمحہ بین الاقوامی قوانین کے احترام کی ضرورت کو بھی دوہرایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج علاقائی سالمیت، خودمختار مساوات اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر عمل کرنے پر بھی زور دیا۔