خواتین ریزرویشن بل‘ لوک سبھا میں نہیں ہو سکا منظور، حمایت میں 298 اور خلاف میں 230 ووٹ پڑے، مودی حکومت کو لگا جھٹکا

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے جڑے تینوں بلوں کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا، جس کے پہلے راؤنڈ میں مجموعی طور پر 528 ووٹ پڑے۔ بل کی حمایت میں 298 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 230 اراکین نے خلاف میں ووٹ ڈالے۔ بل کو منظوری کے لیے دو تہائی ووٹ کی ضرورت تھی، جو کہ 352 ہوتی ہے۔ مودی حکومت اس نمبر سے بہت پیچھے رہ گئی، جو کہ مودی حکومت کے لیے ایک شدید جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔

پہلے راؤنڈ میں ہوئی اس ووٹنگ کے بعد بقیہ دو بلوں کو پیش ہی نہیں کیا گیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ اس بل پر غور کرنے سے متعلق جب ووٹنگ ہوئی تو ’ہاں‘ میں 298 اور ’نہ‘ میں 230 ووٹ پڑے۔ یہ بل دو تہائی اکثریت سے پاس نہیں ہوا، اس لیے بل پر آگے کی کارروائی ممکن نہیں ہے۔ یہ بل غور کرنے کے لیے پیش کیے جانے کی سطح پر ہی گر گیا۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے دیگر 2 بلوں کو آگے نہ بڑھانے کا اعلان کیا۔

مرکزی وزیر برائے قانون ارجن رام میگھوال نے خواتین ریزرویشن سے منسلک 131ویں آئین ترمیمی بل پاس کرنے کے مقصد سے ایوان زیریں میں پیش کیا تھا۔ اسپیکر اوم برلا نے آئین ترمیمی بل پر ووٹنگ کا فیصلہ کیا اور اس مقصد سے انھوں نے لابی خالی کرانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ووٹنگ ہوئی، جس میں مودی حکومت کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے پہلے ہی مودی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ بل کو گمراہ کن اور سازش کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ خاص طور سے کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ خواتین ریزرویشن کا بل نہیں ہے، بلکہ اس کا لباس پہنا کر حد بندی کا بل ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading