تعلیمی سامان کی خریداری میں لوٹ مار پر شکنجہ حکومت کا سخت سرکولر جاری، اسکولوں کی مخصوص دکانوں سے خریداری کی شرط ختم

تھانے (آفتاب شیخ)پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے تعلیمی سامان کے نام پر والدین کی مبینہ مالی لوٹ مار کے خلاف ’سوراجیہ ابھیان‘ کی جانب سے شروع کی گئی مہم کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے 15 اپریل 2026 کو ایک سخت سرکلر جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی اسکول کو طلبہ یا ان کے والدین کو مخصوص دکانوں سے یونیفارم، نوٹ بکس یا دیگر تعلیمی سامان خریدنے پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کو والدین کے مفاد میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جاری کردہ سرکلر میں نہ صرف قواعد و ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے بلکہ شکایات کے ازالے کے لیے ایک مؤثر میکانزم قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تحت تمام اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کریں جن سے تعلیمی سال 2026-27 سے کسی بھی قسم کی جبری خریداری کو روکا جا سکے۔

سرکلر کے مطابق شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کے لیے نوڈل افسران کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے اور متعلقہ دفاتر کے ای میل آئی ڈیز بھی عوامی طور پر جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس حکم نامے کو وسیع پیمانے پر عام کریں اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اگر کسی اسکول کے خلاف شکایت موصول ہوتی ہے تو ایجوکیشن یا ایڈمنسٹریشن آفیسر کو فوری تحقیقات کر کے قصوروار اداروں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔

سوراجیہ ابھیان کے مہاراشٹر کے ریاستی کوآرڈینیٹر ابھیشیک مروکٹے نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان کا مؤثر نفاذ ہی اصل گڈ گورننس کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2004 کے حکومتی فیصلے کے باوجود عمل آوری کی کمی کے باعث والدین کا استحصال جاری تھا، تاہم اب مسلسل جدوجہد کے بعد ان اصولوں کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔

انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے تئیں بیدار رہیں اور کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف ثبوت کے ساتھ شکایت درج کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول تجارتی مراکز نہیں بلکہ تعلیم کے مقدس ادارے ہیں اور انہیں اسی روح کے ساتھ چلایا جانا چاہیے۔

مروکٹے نے مزید بتایا کہ اس مسئلے کی نوعیت ملک گیر ہے اور کئی مرکزی بورڈ کے اسکول ریاستی قوانین کی مکمل پابندی نہیں کرتے، اس لیے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پورے ملک میں یکساں اور شفاف نظام نافذ کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ والدین کو مالی استحصال سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading