بھیونڈی میں ٹورینٹ کمپنی کے خلاف راشٹروادی کانگریس کا ہلہ بول مورچہ

کثیر تعداد میں خالد گڈو کی قیادت میں ٹورینٹ کے صارفین نے زونل آفسر کو میمورینڈم

بھیونڈی (شارف انصاری):- مورخہ3 اکتوبر کو ٹورینٹ کمپنی کے خلاف نکالے گئے عظیم الشان مورچہ کے بعد راشٹروادی کانگریس پارٹی نے گویا ٹورینٹ کمپنی کے خلاف اپنا مورچہ کھول دیا ہے، کمپنی کا ہر محاظ پر پیچھا کرنے والے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قائد خالد گڈو کی لیڈر شپ میں مورخہ 25 اکتوبر کو پھر سے مورچہ نکالا گیا اور پرانت افسر کو شکایتوں کا میمورینڈم سونپا گیا۔معلوم ہو کہ گذشتہ دنوں ٹورینٹ کمپنی نے صارفین کے پاور بل میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے جس سے پاورلوم نگری بھیونڈی کے تمام کارخانہ دار اور عام شہری کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے خالد گڈو کی قیادت میں کثیر تعداد میں افراد نے حفیظ پٹرول پمپ سے پرانت آفس تک مارچ کرکے حکومت کے سامنے اپنا غم و غصہ کا اظہار کیا۔اس احتجاج میں علامتی طور پر ایک شخص کو ٹورینٹ کے ملازمین رسی سے باندھ کر گرفتار کرتے ہوئے لیجاتے دکھلایا گیا ہے ،جس سے اس کمپنی کا غیر قانونی رویہ اجاگر ہوتا ہے۔اپنے میمورنڈم میں خالد گڈو نے واضح کیا کہ کمپنی نے قانو ن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کی ہدایات کو نظر انداز کیا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس سرکولر پر روک لگائی جائے کیونکہ اس کی وجہ سے ۵۰ سے ۶۰ فیصد پاورلوم کارخانے بند ہوگئے ہیں اور شہر میں تیزی سے بیروزگاری اور بھکمری بڑھتی جارہی ہے۔انہوں نے میمورنڈم میں کہا کہ دہلی سے قریب نوئڈا جیسے صنعتی علاقے میں پرانے بجلی کی شرح سے حکومت بجلی کا بل وصول کر رہی ہے جبکہ بھیونڈی شہر میں سب سے زیادہ بجلی کا بل وصول کیا جا رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ ۱۷ دیگر دوسری ریاستوں بجلی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے شہری زندگی ترقی پر ہے اور مہاراشٹر کے کاروبار زوال پر ہے۔ بھیونڈی کی ساری شہری زندگی کا دارومدار پاورلوم پر ہے اگر یہ مندی کا شکار ہوجائے تو سارا شہر بربادی کے کگار پر پہنچ جائیگا۔اس کے علاوہ ٹورینٹ کمپنی کی ناقص کارکردگی بھی میمورنڈم میں شکایت کا موضوع تھی۔ جس کے سبب ڈاکٹر، تاجر پیشہ افراد، ملازمین اور طلبا بے چینی کا شکار ہے۔ٹورینٹ کی اس داداگیری اور ظالمانہ رویہ کے خلاف اس قبل بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر اتر کا احتجاج کیا تھا جس پر حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے چیف اینجنئیر پشپا چوہان کو وفد سے بات چیت کے لیے بھیجا تھا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ٹورینٹ کے اس غیر قانونی رویہ کی تفتیش کرکے بھیونڈی کی عوام کے لیے راحت کا فیصلہ کریگی، مگر ابھی تک حکومت کی جانب سے بھیونڈی کے عوام کے لیے کوئی خوشی کی خبر نہیں آئی ہے۔چناچہ بھیونڈی کی ساری عوام اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کے عہدیددارن اور کارکنان کی جانب سے پارٹی صدر خالد گڈو نے حکومت کو صاف لفظوں میں دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت مہاراشٹر ٹورینٹ کی اس ظلم و ذیادتی کو فوری طور پر اگر نہیں روکتی ہے تو وہ اپنے آندولن کو تیز تر کردیگے اور عوام کے جذبات اور غم و غصہ میں یہ حکومت بہہ جائیگی اور اس کے جو بھی اثرات ہوگے اسکی زمہ دار حکومت ہوگی۔انہوں نے کہ اگر حکومت آج کے اس احتجاج کو سنجیدگی سے نہیں لیتی ہے تو وہ 5 نومبر کو 12 بجے اشوک نگر سے مہاراشٹر ودھوت منڈل کے مرکزی دفتر باندر ہ تک بائک ریلی نکال کر سارے مہاراشٹر میں اس کمپنی کی پو ل کھول کریگے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading