بلند شہر:بلند شہرمیں مبینہ گؤکشی اوراس کے بعد سیانا کے چنگراوٹھی میں ہوئے تشدد معاملے میں نیا انکشاف ہوا ہے۔ پتہ چلا کہ پولیس نے جن لوگوں کوگﺅکشی کے معاملے میں گرفتارکرکے جیل بھیج دیا، وہ بے قصورہیں۔
پولیس کی ہی جانچ میں ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا ہے۔ بتادیں کہ تشدد کے بعد سے فرارچل رہے ملزم بجرنگ دل کے ضلع کنوینریوگیش راج نے گﺅکشی کے واقعہ میں انہیں لوگوں کو ملزم بنایا تھا۔ اب پولیس 5 دسمبرکوجیل بھیجے گئے ساجد، شرف الدین، بنے خان اورآصف کو 169 کی کارروائی کرکے جیل سے نکالنے میں مصروف ہے۔معاملے میں بلند شہرکے ایس پی شہراتل شریواستو کہتے ہیں کہ پورے واقعہ کی جانچ چل رہی ہے۔
معاملے میں ایس آئی ٹی سمیت تمام ٹیمیں جانچ کررہی ہیں۔ جانچ میں یہ سامنے آیا کہ تین دیگرلوگوں نے کچھ اورلوگوں کے ساتھ مل کرگﺅکشی کے واقعہ کوانجام دیا ہے، ان کے خلاف پختہ ثبوت ملے ہیں، ان کی گرفتاری 18 دسمبرکوکی گئی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ان سے واقعہ میں استعمال کی گئی جپسی، بندوق اوردیگراشیا برآمد کی گئی ہیں۔
وہیں اس سے پہلے معاملے میں جو4 لوگ گرفتارکئے گئے تھے، ان کے خلاف پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ پولیس منصفافہ کارروائی کرتے ہوئے پہلے پکڑے گئے چارملزمین کے خلاف 169 سی آرپی سی کی کارروائی کررہی ہے۔واضح رہے کہ مبینہ گﺅکشی کے واقعہ کے بعد بلند شہرتشدد کی آگ میں جل گیا تھا اوراس تشدد میں جہاں سیانا انسپکٹرسبودھ کمارسنگھ شہید ہوگئے تھے، وہیں ایک نوجوان سمت کی بھی تشدد کے دوران موت ہوگئی تھی۔ منگل کوپولیس نے گﺅکشی کے معاملے میں تین ملازمین کوگرفتارکیا۔ ان میں ندیم، رئیس اورکالا شامل ہیں۔