برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر!

تحریر:سمیہ فرحین عبدالمجیب

طالبہ جامعۃ صفۃ الاسلامیۃ (مرکز اسلامی، یونس کالونی ،اورنگ آباد)

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے نام پر بی جے پی نے اپنی مذہبی قیادت یعنی وشوہند پریشد کو مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ان سب کیلئے مسئلہ مندر تعمیر کا نہیں ہے۔ بلکہ وہ کسی نے کسی بہانے سے مندر تعمیر کئے بنا ہی ایشوں کو زندہ رکھنا چاہتے ہے، اور ہندو عقیدت مندوں کے جذبات سے کھیل کر 2019ء انتخابات میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوچنے والی بات ہے جس آر ۔ایس ۔ایس نے بی جے پی اقتدار دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا وہ آر۔ایس۔ایس رام مندر تعمیر کے لئے تحریک چلا رہی ہیں۔

معاملہ صرف یہ ہے کہ 2019ء انتخابات میں کسی نا کسی طرح عقیدت مندوں کے جذبات سے کھیلا جائے اور گمراہ کرکے پھر سے اقتدار حاصل کیا جائے۔ اور اس کھیل میں مسلمانوں کے بغیر دال گلنے والی نہیں ہے اسلئے رام مندر، بابری مسجد معاملے کو گرمایا گیا ہے جس سے اُنکا ووٹ بینک مضبوط ہوسکے۔ اسی کے چلتے ایک سو اُنیس سالہ قدیم دارالعلوم دیوبند موجود ہے اُس دیوبند شہر میں وشوہندو پریشد نے ایک بڑی دھرم سبھا منعقد کی تھی۔ اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وشوہندوپریشد کے قومی سیکریٹری سُریندر جین نے اس جلسے میں موجود لوگوں سے اپیل کی ہے کہ رام مندر تعمیر ہونے تک اُنکی تحریک جاری رہے گی۔

اور اگر رام مندر کیلئے پارلیمنٹ میں آرڈیننس جاری نہیں کیا گیا تو پورے ملک کے رام مخالفین کیلئے بھارت چھوڑو اندولن چلایا جائیگا۔ اور رام مندر کے مخالفین کو چُن چُن کر ملک سے باہر کردیا جائے گا۔ اس پروگرام میں دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارہ کو جم کر نشانہ بنایا گیا۔ جس طرح کی تیاری کی گئی تھی اُتنی بھیڑ بھی جمع نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف عوام کو مشغول کرنے کیلئے مسلمانوں اور دارالعلوم دیوبند کونشانہ بنایا گیا۔ اور کہا گیا کہ آج دارالعلوم دیوبند کے ہی اشارے پر آج دہشت گرد اظہر مسعود نے رام مندر تعمیر نہیں ہونے دینے کی دھمکی دی ہے۔

یہ ملک نہرو کا نہیں بلکہ مودی ، یوگی کے دور کا ہے۔ آج ینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائیگا۔ آج کا ہندو ڈرتا نہیں جھکتا نہیں ہے۔ دنیا کیکوئی طاقت ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے سے نہیں روک سکتی۔ یہ ملک کی سو کروڑ ہندؤں کی آستھا کا سوال ہے۔ اگر کوئی ہماری آستھا رُکاوٹ بنے گا تو اُسے تنکلے کی طرح بہا دیا جائیگا۔

اور ساتھ ہی ساتھ دھمکی بھی دے دی تھی 9؍دسمبر کو دہلی میں ہندؤں کا کثیر تعداد میں جمع ہونا ضروری ہے تاکہ رام مندر مخالفین کے پیروں تلے سے زمین کھسک جائے۔

انکی یہ بوکھلاہٹ واضح کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح بھڑکا نا چاہتے ہے لیکن مسلمان کا صبر و تحمل اُنکی سبھی سازشوں پر پانی پھیرنے کا کام کررہی ہے۔ کیوںنکہ 25؍نومبر کو ایودھیا میں دھرم سنسد کے نام پر فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی پوری کوشش کی گئی تھی۔ لیکن مسلم قیادت سمیت ملک کے مسلمانوں کا صبر اور سیکولر برادران وطن کی مصلحت آمیز خاموشی ے انکے سارے کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ وہ جس مقصد کے تحت جمع ہوئے تھے، وہ بھی پورا نہیں ہوا اور خود ہی آپس میں لڑکر وقت سے پہلے پروگرام کو برخاست کرنا پڑا۔

خبردار! خطرہ ابھی ٹلا نہیں انتخابات کے گرم ماحول میں اس طرح کی ناٹک بازی جاری رہیگی اور موقع دیکھ کر حالات بگاڑے جاسکتے ہیں جسکے لئے چوکنا رہنا بہت ضروری ہیں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading