جی بالکل صحیح سُنا آپ نے…
آج کے اس ماڈرن دور میں برقعہ اپنی بقاء کی جنگ ہار گیا…
لہٰذا اب شرمندگی سے بچنے اور اپنا شکست خوردہ چہرہ چھُپانے "برقعے کو برقعے کی ضرورت ہے”
جس طرح ہمارے وزیراعظم صاحب اپنے الفاظ کے زریعے مسلمانوں کے تئیں اپنی نفرت کو چُھپاتے ہیں مگر انکا ہر عمل اس نفرت کو عیاں کر دیتا ہے…. ٹھیک اسی طرح کا حال آج برقعہ کا ہو گیا ہے…
کہ
"چُھپا کر بھی سب کچھ عیاں کر رہا ہے”
کچھ عقل مند حضرات وہ بھی ہیں جو برقعے کو ختم کرنے کا الزام بالی ووڈ کے سر دے رہے ہیں
اب انھیں کون سمجھائے کہ برقعے کا سب سے صحیح استعمال بالی ووڈ میں ہی ہو رہا ہے..
کسی بھی ہیروئین کو اپنی کامیابی کی دعا کے لئے مزار پر جانا ہو تو وہ لوگوں سے چُھپنے کے لئے مکمل پردے کا اہتمام کرتے ہوئے برقعہ پہنتی ہے…
بھلا برقعے کا اس سے بہتر استعمال اور کیا ہو سکتا ہے…
اکثر مولوی صاحب کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ پردہ کرو اور برقعے کے استعمال کو عام کرو…
بھئی ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ جسم کو سر سے پاؤں تک چُھپانے والے کپڑے کو برقعہ کہتے ہیں…
مگر نہیں ہم غلط تھے….
آج جب اُنھیں مولوی صاحب کے گھر کی مستورات کو پردے میں دیکھا تو سمجھ میں آیا کہ برقعہ کیا ہے…
ایک ایسا کالا کپڑا جس پر زریں نقش نہ سہی تو کم از کم دیدہ زیب پھول بنے ہوں… اور وہ بالکل چست ہو کہ جسم کے نشیب و فراز نظر آئیں…
بھلا ڈھیلا ڈھالا بھی کہیں برقعہ ہوتا ہے…..؟؟
بلکہ ایک محفل میں تو اس سے آگے بھی سُنا گیا ہے کہ برقعہ ایسا نہ ہو کہ کوئی آپ کو دیکھے ہی نہیں…
برقعہ تو ایسا ہو کہ ہر کوئی بس آپ کو ہی دیکھے….. تب جا کر یہ بات سمجھ آئی کہ اصل برقعہ کیا ہوتا ہے…
بہر حال اس ماڈرن دور میں اصل برقعے کو دیکھ لینے کے بعد ہم تو یہی کہیں گے کہ…
شرمندگی سے بچنے اور منہ چُھپانے کے لئے پرانے دور کے برقعے کو برقعے کی ضرورت ہے……!!
از: اطہر کلیم انصاری، ناندیڑ
9657655569