اورنگ آباد:بنیادی سہولتوں کے بغیر شہر میں دوڑ رہی ہیں اسمارٹ بسیں

اورنگ آباد:(جمیل شیخ): اسمارٹ سٹی ابھیان کے تحت تاریخی شہر اورنگ آباد میں اسمارٹ بس نے دوڑنا شروع کردیا ہے۔ لیکن ان بسوں سے سفر کرنے والے مسافرین کے لئے سہولتوں کا فقدان ہے۔موسم گرما شروع ہوچکا ہے ایسی حالت میں مسافرین کے لئے سایہ دار اسٹاپ ندارد ہے ۔اب اسپیشل پرپس وہیکل کی ایک میٹنگ 28 فروری کو اسمارٹ سٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے میرٹارسنجے کمار کی صدارت میں منعقد کی جانی ہے جس میں اسمارٹ سٹی بس پروجیکٹ کے تحت بس اسٹاپ کے ساتھ ساتھ شہر کے راستوں کے علاوہ دیگر موضوعات پر اہم فیصلے لئے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تاریخی شہر اورنگ آباد کو اسمارٹ سٹی ابھیان میں شامل کئے جانے کے بعد ابھیان پر موثر انداز میں عمل آوری کے لئے اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی ) تشکیل دی گئی۔ ایس پی وی کی تجویز پر اسمارٹ سٹی ابھیان کے تحت اسمارٹ سٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے نام سے بنک میں علیحدہ اکاﺅنٹ کھولا گیا کافی جدوجہد کے بعد اورنگ آباد شہر میں اسمارٹ سٹی بس سروس شروع کی گئی ایک خبر کے مطابق فی الحال 24 بس گاڑیاں شہر کے مختلف راستوں پر دوڑائی جارہی ہیں۔اس کے لئے اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ایس ٹی کی جانب سے ڈرائیورس کنڈکٹرس اور دیگر ملازمین حاصل کئے گئے ہیں۔

عمدہ قسم کی بس گاڑیوں کو شہر میں دوڑتا دیکھ کر شہری خوش ہیں لیکن آج بھی ان آرام دہ گاڑیوں کو دیکھنے کے بعد وہ ناخواندہ لوگ جنہیں اس طرح کی گاڑیوں کو ٹراویلس بس سمجھتے ہیں وہ ان گاڑیوں کے قریب آنے سے کترا رہے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ ان کو یہ سمجھانے میں ناکام ہے کہ یہ گاڑیاں ان کی سہولت کے لئے مرکزی حکومت کی اسکیم کے تحت شہر میں سٹی بس سروس کے طور چلائی جارہی ہیں۔ دوسری اہم بات اسپیشل پرپز وہیکل نے بس سروس تو شروع کردی لیکن اس سے پہلے بس سروس سے متعلق اہم باتوں پر غور نہیں کیاگیا مثلاًسٹی بس سروس اسٹاپ بامبے پونہ شہروں میں موجود اسٹاپ کو دیکھنے کے بعد ہی لوگ یہ اندازہ قائم کرلیتے ہیں کہ یہاں سٹی بس رکے گی لیکن اورنگ آباد میں اس طرح کا کوئی انتظام نہیں کیاگیا۔فی الوقت اسٹاپ نہ ہونے کے سبب یہ بسیں مرضی آئے وہاں روکی جارہی ہیں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اسمارٹ سٹی کے تحت چلائی جارہی بس سروس ایس پی وی کے طئے اصولوں کے تحت نہیں بلکہ مسافرین کی مرضی سے چل رہی ہے۔ جہاں سے بس میں انہیں سوار ہونا ہے بس رک جاتی ہے جہاں اترنا ہے وہاں بس کو روک دیا جاتا ہے مسافرین اگر اس کے عادی ہوجائیں تو مستقبل میں اسمارٹ سٹی بس سروس کے لئے کافی پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ہمارے نمائندہ جمیل شیخ نے مختلف علاقوں میں اسمارٹ بس سروس سے سفر کرنے والے مسافرین سے بات چیت کی وہ اس بات کے لئے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کی سہولت کے لئے اسمارٹ سٹی ابھیان کے تحت اسمارٹ سٹی بس سروس شہر میں شروع کی گئی لیکن اس بات پر ناراض بھی ہیں کہ انتظامیہ نے بس سروس شروع کرنے سے قبل وہ انتظامات نہیں کئے جو انتہائی اہم اور ضروری تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بس سروس کے شروع ہونے سے پہلے ایس پی وی نے بسوں کے راستے طئے کرلئے تھے پھر ان راستوں پر بس روکنے کے لئے اسٹاپ بنائے جانے چاہئے تھے۔ جو نہیں بنائے گئے۔ اسی طرح کئی راستوں پر سٹی بس سروس کی پھیری میں تقریباً چالیس سے ۵۴ منٹ کا وقفہ ہے اس دوران مسافر کی سہولت کے لئے اسٹاپ پر لائٹرین اور پینے کے پانی کا انتظام بھی ہونا چاہئے اگر پینے کے پانی کا انتظام ممکن نہ ہو تو کم از کم ضرورت سے فارغ ہونے مردو وخواتین کے لئے علحیدہ علیحدہ لائٹرین کا انتظام ہونا چاہئے اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھیری کا وقفہ کم ہونا چاہئے تاکہ مسافر ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں پر اس کو یہ سہولت مہیاہو۔اسمارٹ سٹی بس کے لئے اورنگ آباد شہر میں مختلف راستوں پر 57 بس اسٹاپ بنانے کی تجویز ہے لیکن یہ کہاں کیسے ہونگے اس کا فیصلہ آئندہ منعقدہ میٹنگ میں کیا جاسکتا ہے۔ساتھ ہی بسوں میں جی پی ایس نصب کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ 28 فروری کو منعقدہ میٹنگ میں امید ہے کہ ان باتوں پر غور کیا جائے گا۔ لوک سبھاانتخابات کے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے قبل اسمارٹ سٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی یہ شائد آخری میٹنگ ہو اس میٹنگ میں ماسٹر سسٹم انٹریگیٹرس ایم ایس آئی ریٹرا فیٹنگ شہر کے راستوں کی موجودہ حال اسمارٹ سٹی بس کے علاوہ دیگر معاملات پرغور کیاجاسکتا ہے۔اسی طرح ماسٹر سسٹم انٹریگریٹر کے تحت اورنگ آباد شہر میں ۰۰۸ مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا منصوبہ ہے شہر کے کچرا صفائی کا معاملہ جوں کا توں ہے ٹینکروں کے ذریعہ پانی سپلائی کرنے میں میونسپل کارپوریشن کے ہاتھ پاﺅں پھولنے لگے ہیں ۔اسمارٹ سٹی ابھیان کے تحت چکل تھانہ یا نکشتر واڑی علاقہ کو گرین فیلڈبنانے کی تجویز تھی سیاسی اثر ورسوخ کے دباﺅ میں گرین فیلڈ کی تجویز کو گول کرکے ریٹروفٹنگ کی تجویز کو مرکزی حکومت سے منظوری حاصل کی جاچکی ہے۔

ان تمام معاملوں پر 28 تاریخ کی منعقدہ میٹنگ میں اہم فیصلے لئے جاسکتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو میونسپل کارپوریشن کے کام کاج کے طور طریقوں سے بخوبی واقف ہےں ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مثال دے رہے ہیں”چاند دن کی چاندنی پھر اندھیری رات“وہ کہتے ہیں کہ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں شہر کے جغرافیہ اور راستوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے اے ایم ٹی سٹی بس سروس شروع کی تھی لیکن ایک سال کے اندر اندر ہی یہ بس سروس نہ صرف بند کردی گئی بلکہ شہر میں دوڑنے والی بس گاڑیاں کباڑ میں بیچنی پڑیان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن انتظامیہ مرکزی حکومت کا نمائندہ اور ریاستی حکومت واقع اگر سنجیدگی کے ساتھ سٹی بس سروس چلائیں اور بس سروس میں آنے والی دشواریوں کو بر وقت دور کردیا جائے تو یقینا شہر کے لوگوں کو ایک اچھی سہولت مل پائے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading