-
ایٹراسٹی قانون کے تحت دائر مقدمہ میں قبل از ضمانت کی گنجائش نہ ہونے کے باوجو د سپریم کورٹ نے ضمانت پر کیا رہا
-
یڈوکیٹ ایس ایس قاضی کی کامیاب پیروی
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): خلدآباد کے ساکن سلیق الدین چشتی کے خلا ف مکندتکارام جادھو نے ۷ اپریل ۸۱۰۲ کو خلدآباد پولس اسٹیشن میں ایٹرا سٹی ایکٹ کے تحت سلیق چشتی کے خلاف ایف آئی آر داخل کروایا جس کے بعد سلیق چشتی نے سیشن کورٹ اورنگ آباد میں ۳۲ اپریل ۸۱۰۲ کو قبل از ضمانت کے لئے درخواست داخل کی ہے جسے کورٹ نے خارج کردیا جس کے بعد سلیق چشتی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی جس کے بع دہائی کورٹ نے بتاریخ ۱۱ مئی ۸۱۰۲ کو ایڈانٹریم ضمانت منظور کی اور اس کے بعد درخواست گزار اور پولس کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا بعد از ۶ اگست ۸۱۰۲ کو سلیق چشتی کی داخل کردہ درخواست خارج کردی جس کے بعد چشتی نے اس فیصلے کے خلاف ایڈوکیٹ ایس ایس قاضی کے معرفت سپریم کورٹ میں کریمنل ایس ایل پی اسپیشل لیوپیٹیشن دائر کی اور اس کی پہلی سماعت کے وقت ہی ایڈوکیٹ ایس ایس قاضی نے سپریم کورٹ میں اپنی دلائل پیش کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا کہ خلدآباد کی درگاہ حضرت بربہان الدین اولیا اور حضرت زرزردی بخص دولہا درگاہ کے انتظامی کمیٹی کے خلاف سلیق چشتی کا عدالت میں مقدمہ جاری ہے اور چشتی نے کمیٹی نے کئے ہوئے غیر قانونی کامو ں کو وقف بورڈ اور عدالت کے سامنے رکھا ہے اس لئے اس بات کا بدلہ لینے کے لئے کمیٹی کے افراد نے مکندتکارام جادھوکوتیار کرکے سلیق چشتی کے خلاف جھوٹی شکایت درج کروائی
شکایت میں ۵ اپریل ۴۰۰۲ کو خلدآبا فرش محلہ میں سلیق چشتی نے درحواست گزار کو ذات پر گالی دینے کا جو الزام لگیا وہ غلط ہے چونکہ اس وقت چشتی وہاں موجود نہیں تھے جسے ثابت کرنے کے لئے چشتی نے سی سی ٹی وی فوٹیج جو کہ پولس اسٹیشن خلدآباد اور بلدیہ خلدآباد میں موجود تھے اسے حاصل کرنے کے لئے انھوں نے ان محکموں سے درخواست کی لیکن انتظامیہ نے یہ فوٹیج دینے سے انکار کیا اس بناءپر سپریم کورٹ نے سلیق چشتی کو ۱۱ ستمبر ۹۱۰۲ کو انٹریم ضمانت دی۔ بعد از درحواست گزار کی جانب سے جواب داخل کرکے یہ بتایا گیا کہ اس کی درخواست صحیح ہے اس مقدمہ کی آخری سماعت ۹۱ فروری ۸۱۰۲ کو ہوئی جس میں سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس روہنٹن فلی نریمن اور نوین سنہا کے ڈویژن بینچ کے سامنے اس کی آخری سماعت ہوئی اس معاملہ میں ایڈوکیٹ ایس ایس قاضی نے دلائل پیش کی کہ ۵ اپریل ۸۱۰۲ کو چشتی نے درحواست گزار کو اس کی ذات پر گالی نہیں دی چونکہ وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے
جسے ثابت کرنے کے لئے ایڈوکیٹ ایس ایس قاضی نے واضح کیا کہ درخواست گزار اور خدامین کمیٹی کے افراد نے سلیق چشتی کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی کوشش کی اور اس کا کوئی کوئی بھی ثبوت درخواست گزار کے پاس نہیں ہے اور ان کے گواہوں میں بھی تمام خدامین کمیٹی کے ممبران ہے جو کہ چشتی سے بدلہ لینے کے لئے موقع دیکھ رہے ہیں چونکہ جب کسی شخص کو جھوٹے مقدمہ میں ملوث کی جارہا ہے تو سپریم کورٹ کو پورا اختیار ہے کہ اگر اس معاملہ میں ایٹرو سٹی قانون کے تحت اگر ضمانت کی گنجائش نہ بھی ہو تو سپریم کورٹ اپنے اختیار کا استعمال کرکے انصاف کرنے کےلئے خود قانون بناسکتا ہے۔ اس فیصلے سے فاضل ججوں نے قانون کو عمل میں لایا۔ اس معاملہ میں ملزم کی جانب سے ایڈوکیٹ ایس ایس قاضی کے ہمراہ ایڈوکیٹ سید شکیل احمد نے پیروی کی۔