اسمبلی الیکشن نتائج !خوش فہمی کے بجائے مزید متحرک رہنے کی ضرورت

از: عبدالرّحمٰن الخبیرقاسمی بستوی رائےچوٹی ضلع کڈپہ ائےپی
از: عبدالرّحمٰن الخبیرقاسمی بستوی رائےچوٹی ضلع کڈپہ ائےپی

محترم قارئین کرام……!

حالیہ اسمبلی الیکشن میں ان تین ریاستوں میں جہاں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوئی ہے وہ اس لئےنہیں کہ انہیں شکست ہوگئی ہے اور عوام نے انہیں انکار کر دیا ہے بلکہ یہ منصوبہ بند سازش ہے، یہ شکشت برائے شکست نہیں بلکہ برائے فتح ہے. اس لئے کہ آگے 2019ء کا مرکزی الیکشن جیتنا ان کا منصوبہ ہے. ای وی ایم مشینوں کا کردار مشکوک بن چکا تھا،ہرطرف سے مشینوں کو ھٹاکر بیلٹ پیپرز لانے کی آوازیں اٹھ رہی تھیں اور قدیم ووٹنگ کا طرز اپنانے کی مانگ زوروں پہ تھی، جبکہ قدیم طرزِ ووٹنگ میں اس طرح کی دھاندلی نہیں ہوسکتی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، یہ عجوبہ اور یہ کمال تو صرف ای وی ایم مشین ہی کو حاصل ہے، اس لیے مرکز میں براجمان پارٹی ہرگز نہیں گوارا کرسکتی کہ مرکزی الیکشن میں ای وی ایم کو ھٹا کے دوسرا طریقہ اپنایا جائے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟ اور ان کے حقیقی ووٹ کتنےہیں؟ اس لئے ان پر لازم تھا کہ ای وی ایم کا اعتماد مزید بحال کیا جائے اور لوگوں میں یہ تاثر دیا جائے کہ اگر ای وی ایم میں کسی طرح کی گڑبڑی کی جاسکتی ہے تو مدھیہ پردیس اور چھتیس گڑھ میں ضرور گڑبڑی کی جاتی کیونکہ وہاں کا اقتدار بچانا تو ناک کا مسئلہ تھا پھر بھی بی جے پی ہارگئی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشینیں درست ہیں اور انہیں ھٹانے کی ضرورت نہیں.

الغرض حالیہ الیکشن کے نتائج نے اگرچہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے اور سردست وہ ہار گئی ہے مگر بندہ ناچیز کا خیال یہ ہے کہ انھوں نے ہار کر بھی جیت حاصل کی ہے، اور یہ شکشت ان کے لئے شکشت نہیں ہے بلکہ فتح ہے کہ اگلا مرکزی الیکشن پھر اسی ای وی ایم مشین سے ہوگا اور پھر تکنیکی چالبازیوں سے مرکزی اقتدار ہتھیالیا جائے گا، اس لئے بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اگلے الیکشن میں ای وی ایم کے ھٹانے کا پرزور مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایمانداری کے ساتھ ہارو جیت کا فیصلہ ہوسکے ـــ

آپ نے دیکھا ہوگا کہ جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں ان سبھوں کی بھی نوعیت تقریباً اسی طرح کی رہی ہے تاکہ ای وی ایم کو معتبر بنایا جاسکے اس لیے چاہیے کہ سیاسی پارٹیاں مزید چوکنا اور ہوشیار ہوجائیں، اور 2019 کو سامنے رکھتے ہوئے عواقب ونتائج کا تجزیہ فرمائیں، کسی بھی اسمبلی کی ہار جیت کوئی بنیاد نہیں اسی لیے آپ نے سنا ہوگا کہ ایک ٹی وی اینکر یہی کہہ رہا تھا کہ اب تو ای وی ایم پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے، حالانکہ اس کے شبہ نہ کرنے والی بات سے ہی اس شبہ کو مزید تقویت ملی ہے،پھر بی جے پی کے ورکر بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سیمی فائنل نہیں ہے بلکہ مرکزی وصوبائی دونوں الیکشن کا الگ الگ انداز ہے،اس لیے اس الیکشن سےزیادہ خوش فہمی واطمنان کےبجائے چوکنہ ومتحرک رہنےکی ضرورت ہے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading