Welfare Association for Resurgence of Minorities (WARM)
شیخ معروف
جنرل سیکریٹری ویلفیر اسوسی ایشن فار ریسرجنس آف مائنارٹیز (وارم)
9422797112, 9145254764
دُنیا میں قوموں کے ترقی یافتہ یا پسماندہ ہونے کے وجوہات تعلیم، روزگار، غربت، سیاست تشخص معشیت ، صحت، تحفظ جیسے مسائل ہیں۔ جو قوم ان معاملات میں جتنی کمزور ہوگی اُتنی ہی پسماندہ کہلاتی ہے اور جتنی طاقتور ہوتی ہے اُتنی ترقی یافتہ کہلاتی ہے آج بدقسمتی سے اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان ان تمام شعبوں میں بے انتہا پستی کا شکار ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی، تعصب، گندی سیاست، مسلسل ہونے والی نا انصافیاں ،فسادات کانہ ختم ہونے والا سلسلہ اس قوم کو مزید پستی کی گہرائیوں میں ڈھکیل رہا ہے۔بنیادی مسائل کو حل کرنے کی منظم صورت ہمارے پاس نہیں ہے۔ جس سے کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ دیگر اقوام اپنے سماجی مسائل منظم انداز سے حل کرہے ہیں۔ آج دلت پچھڑے اور پسماندہ طبقات BAMCEFجیسے پلٹ فارم سے اپنی قوم کو شعور اور ترقی کے راستے دکھا رہے ہیں۔ BAMCEFکی ملک کے 31ریاست 650اضلائع 5000تحصیل 200000گاو¿ں ، 14ممالک میں شاخیں موجود ہیں۔کروڑوں روپیے کے خرچ سے چار بڑی پرنٹنگ پریس جہاں سے 9زبانوں میں اخبار نکلتے ہیں 3000سے زائد فُل ٹائم ورکرس اس تنظیم کی طاقت ہیں جو ایک ساتھ ایک وقت پر پورے ملک میں اپنے پروگرام منعقد کرسکتے ہیں۔مگر ہمارے پاس قومی سطح پر ایسی کوئی منظم جماعت نہیں جو مسلمانوں کو دین اور سیاست کے بعد بنیادی سماجی مسائل کے حل کے لیئے کوشاں رہے ہم مذہبی اورسیاسی جماعتوں سے تووابستہ ہیں مگر افسوس قومی سطح پرہمارے پاس کوئی سماجی تنظیم نہیں ہے۔
جبکہ۔۔۔۔۔مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ مخلص، ایماندار، دیندار اور سمجھدار ہے جو نہ تو سیاسی اور نہ کسی مذہبی جماعت سے جڑا ہواہے وہ مسلمانوں کے خالص سماجی مسائل میں دلچسپی رکھتا ہے اسکو آج تک قومی سطح پر کوئی مناسب سماجی پلیٹ فارم نہیں مل سکا اس لیئے وہ انفرادی اور چھوٹی چھوٹی کوشش کرتا ہے یہ طبقہ شدّت سے مسلمانوں کی کسی سماجی تنظیم کے بنیاد کا منتظر تھا اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے ملکی سطح پر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ جسکا نام ”ویلفیر اسوسی ایشن فارریسرجنس آف مائناریٹز(WARM) “ ہے۔ یہ تنظیم انشاءاللہ مسلمانوں میں تعلیم سے لیکر تمام بنیادی مسائل کو حل کرنے کیلئے قومی سطح پر منظم جدوجہد کریگی یہ ملک کے ہر بستی میں اپنایونٹ قائم کریگی اور ہر مکتب فکر وحیثیت کے لوگوں کو جوڑے گی مسلمانوں کے سماجی مسائل سبھی جماعتوںاور مسلکوں کے مشترکہ مسائل ہیں اسیلئے تمام اختلافات سے اُوپر اُٹھ کر خالص اللہ کی رضا کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ضروری ہے۔تاکہ مزید نقصانات سے بچا جاسکے۔
وارم کا تعارف:۱)WARMمسلمانوں کی پہلی قومی سماجی تنظیم (غیر سیاسی) ہے۔
Mission: ملک اور ملت کی خدمت کرنے کے لائق باکردار، ایماندار، بے لوث اورمخلص خادم تیار کرنا۔ویجن (Vision): ملک کے طول وعرض میں جدید اداروں کا جال بچھاکر مسلمانوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا، اُنکی ترقی کرنا، ایک دوسرے سے جوڑنااوربااختیار بنانا۔نیٹ ورک: ہم وارم اوراسکے مختلف اداروں کے ذریعے تین لاکھ ملازمین، دس لاکھ ممبران، 35سے 40لاکھ طلبائ،35سے 40لاکھ والدین، تاجر، پروفیشنل، 5000 عمارتوں کا ایک طاقتور نیٹ ورک قائم کرنا چاہتے ہیں۔جو ملک میں ایسی طاقت ہوگی جن کے ذریعے ہم ہمارے بنیادی سماجی مسائل کو آسانی سے حل کرسکیں گے۔
۲) اغراض و مقاصد :۱) مسلمانوں کے لیئے سماجی معاشی اور تعلیمی پروجکٹ چلانا۔۱) ملک کے طول وعرض میں مختلف ادارے ، کالج اور اسکولوں کا جال بچھا کر ذہین مسلم طلبہ کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرنا
۲) دینی مدارس میں عصری تعلیم اور عصری مدارس میں دینی تعلیم کو جاری کرانا۔۳) مسلم نوجوانوںمیں اخلاق، ہمّت، رفاقت،نظم و ضبط، قیادت، مثبت سونچ، جراتمندی اورانصاف پسندی جیسی صفات کو فروغ دینا ۔۴) حقوق کے تحفظ اور بچاو¿ کے لیئے مستحق شہریوں کو قانونی مدد فراہم کرنا ۔۵) اقلیتوں کے لیئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ وقتاً فوقتاًاعلان شدہ پروگرام کو عمل میں لانا۔۶) اقلیتوں میں قائدانہ صلاحیت کو فروغ دیکر انہیں زندگی اور ملک ترقی میں حصّہ لینے کے لیئے حوصلہ افزائی کرنا۔۷) بے روزگاری کے مسلے کو حل کرنے کے لیئے مختلف راستے اور طریقوں کا پتہ لگانا
اُصول یہ ہے کہ:اگر مسائل قومی سطح کے ہو تو حل بھی قومی سطح پر ہونا چاہیئے کسی گلی یا محلہ میں چند افراد مل کر اس مسلئے کو حل نہیں کرسکتے ۔
لائحہ عمل (Agenda): مسلمانوں میں تعلیم، روزگار، غربت، تجارت، انصاف ،صحت تحفظ، تشخص ، فرقہ پرستی جیسے اہم سماجی مسائل پرمنظم اور موثر انداز سے کام کرنااور حل تلاش کرنا۔
WARMکا تنظیمی ڈھانچہ (تھنک ٹینک)
۱) ضلعی کمیٹی(ہر تعلقہ سے نمائندگی)۔۲) ریاستی کمیٹی (ہر ضلع کی نمائندگی)۳) قومی کمیٹی (ہر ریاست کی نمائندگی)(ہر کمیٹی میں ۔ سبھی مکتب فکر، جماعت ، برادری، پروفیشن، علمائ، حفاظ، مفتی، خواتین، نوجوانوںکی نمائندگی لارمی ہوگی)
WARMکی خصوصیات کیا ہیں؟:یہ ایک سماجی تنظیم ہے ۔ سبھی مکتب فکر ، جماعت اور مسلک کے مسلمانوں کا مشترکہ پلٹ فارم ہے اسکا ایک معیاری اور جمہوری دستور ہے۔ یہ تنظیم کسی شخص، گروپ ، جماعت یا خاندان کی میراث نہ ہے اور نہ ہوگی یہ خالص ملّت کی امانت ہوگی۔اس کے تما م اثاثہ اور سرمایہ ملّت کی ملکیت ہوگی اور کسی ممبریا عہدہ دار کا اس میں کوئی حصّہ نہیں ہوگا۔
ممبر شپ: مسلمان خواہ وہ کسی مذہبی جماعت ، مسلک، مکتب فکر سے وابستہ ہو یا نہیں ہوWARMکا ممبر بن سکتا ہے۔
WARMکا طریقہ کارکیسا ہوگا؟(Methodology)
یہ ملک کے گوشے کوشے میں اپنی یونٹ قائم کرکے ملّت کے مخلص، سمجھدار، ایمانداراور اثردار لوگوں کو جوڑ کران کا ایک طاقتور نیٹ ورک بنانا چاہتی ہے جو ہمارے سماجی مسائل پر سنجیدگی سے غور وفکر کے ساتھ اسکا حل ڈھونڈ سکے۔ ہر ضلع میں WARM Complex تعمیر کرناچاہتی ہے۔
WARM ComPlexکیا ہے؟
ہر ضلع میں کم ازکم تین3 ایکٹر زمین پر WARM Complexکی تعمیر کی جائیےگی۔ وارم میں شامل ہو کر دامے درمے سخنے اسکی مدد کیجئے اور سماجی مسائل کے اجتمائی جدوجہدکا حصّہ بنئے وارم کے دستور کو تفصیل سے پڑھیئے۔ جو ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے اسکے لیئے آپ ہم سے کتابچہ ”آو¿کوشش کریں “ حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ تک پہچنے کا انتظار مت کیجئے ایک بڑی جمہوری جدوجہد اور بڑی سونچ کا حصّہ بنیئے اپنے ضلع میں اس کا یونٹ قائم کیجئے۔اور ”وارم کامپلکس“کی بنیاد رکھیئے۔
ناندیڑ میں WARM ”وارم“کے تعلیمی پروجیکٹ کے تعارف اور تعلیم کے جدید تقاضوں پر روشنی ڈالنے کے لیئے عالی جانب مفتی خلیل الرحمان صاحب کی سرپرستی میں ایک تعلیمی کانفرنس کا انعقاد 30ستمبر کو کیا جارہا ہے جس میں ماہر تعلیم انیس چشتی صاحب پونہ ، ڈاکٹر شیخ عظیم الدین صاحب ریٹائڑڈڈین ڈپاڑٹمنٹ آف ایجوکیشن انٹیگرل یونیورسٹی لکھنو¿،جناب شیخ عبدالروف صاحب ریٹائڑڈ ڈپٹی ڈیوزنل کمشنر ناگپورو سابقہ چیف ایکزیکیٹوآفیسرمراٹھواڑہ وقف بورڈاورنگ آباد، پروفیسر مظہرالدین فاروقی صاحب( قومی نائب صدر۔ وارم)حیدرآبادمختلف عنوانات پر خطاب فرمائیں گے۔
ورکنگ ہیڈآفس:431, Dr. Iqbal Nagar Parbhani(431401)
ناندیڑ یونٹ کا ورکنگ آفس: Hashmi Multi Services, Quba Masjid Degloor Naka, Nanded
Web: http://www.warmtanzeem.org, Email: skmaruf64@gmail.com