بلند شہر:7اکتوبر (پریس ریلیز)انجمن ترقی اردو ہند بلند شہر شاخ کے زیر اہتمام اردو صحافت اور تحریک آزادی ہند پر ایک سیمینار اریب منزل اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ ضلع کی ممتاز علمی اور سیاسی شخصیت جناب بدرالاسلام سابق چیر مین شیانہ کی صدارت میں منعقد ہ سیمنیار کا آغاز حافظ شکیل احمد کی تلاوت کلام پاک اور ارشاد احمد شرر ایڈوکیٹ کی نعت پاک سے ہوا۔ ایڈوکیٹ صہیب خاں نے نظامت کی۔ کوثر علی نے اردو کی عظمت پر شاندار نظم پیش کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ پروفیسر عظمت علی خاں نے مہمانان کا خیر مقدم کیا۔ اپنے استقبالیہ کلمات میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر ظہیر احمد خاں نے مہمانوں اور شرکاءکا استقبال کرتے ہوئے سیمینار کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریک آزادی میں اردو صحافت کی نمایاں اور بے مثال قربانیوں پر اظہار خیال کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں بدرالاسلام نے کہا کہ 1857 سے لے کر 1930-35تک ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کے لیے جنگ کرنے کا سہرا زیادہ تر اردو اخبارات کے سر رہا 1857 میں اردو صحافت نے جو بے مثال کردار ادا کیا اس کو تمام مورخین نے خراج تحسین پیش کیا اور اردو صحافت کو جنگ آزادی کا ہر اول دستہ قرار دیا ۔ سیمینار کے مہمان خصوصی آفاق الرحیم خاں سابق چیرمین بگراسی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 1882 میں کلکتہ سے جام جہاں نما کی اشاعت سے لے کر ملک کی آزادی تک اردو صحافت کا کردار بڑا روشن اور تابندہ ہے انھوں نے کہا کہ اردو اخبارات نے تحریک آزادی کے دوران جو انقلابی کردار ادا کیا ہے اسے تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جانا چاہیے کیونکہ اردو صحافیوں نے قلم کی آزادی قیمت اپنے سروں کا نذرانہ پیش کرکے ادا کی تھی ۔ سیمینار کے مہمان ذی وقار ابو بشر ممبر سٹی بورڈ نے اس موقع پر کہا کہ تحریک آزادی میں اردو صحافت کا خصوصی تعاون اور نمایاکردار رہا ہے۔ اردو اخبارات کی تحریک سے ہی انقلاب آیا اور ملک کے باشندے حصول آزادی کے لیے سڑکوں پر نکلے ۔ سیمینار کے معزز مہمان قاری محمد طلحہ قاسمی ناظم اعلیٰ جامعہ فاروقیہ نے اپنے پر جوش اور عالمانہ خطاب میں فرمایہ کہ تحریک آزادی میں اردو صحافت کا سر فروشانہ کرداررہا ہے جس پر ہم سب کو ہمیشہ ناز رہے گا انھوں نے مزید کہا کہ اردو صحافت کے شاندار انقلابی کردار ہی کی وجہ سے تحریک آزادی پروان چڑھی اور لوگ آزادی کی روح پھونکی ۔ اس موقع پر معزز مہمانان حاجی جاوید غازی حاجی لیاقت علی انجنئیر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ سیمینار میں مختلف حضرات نے اردو صحافت اور تحریک آزادی پر اپنے مقالے پیش کیے۔ ڈاکٹر حافظ ابو عبید خاں صاحب نے اپنے کلیدی مقالے میں اردو کے پہلے اخبار جام جہاں نما سے لےکر متعدد اخبارات کا تذکرہ کیا اور اردو صحافت کا ارتقاءپر اظہار خیال کرتے ہوئے دہلی اردو اخبار صادق الاخبار سراج الاخبار کا تذکرہ کرتے ہوئے اردو صحافت کو تحریک آزادی کا ستون قرار دیا اور تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر ماسٹراجلال احمد خاں نے اپنے مقالے میں مولانا محمد علی جوہر ، سر سید احمد خاں اور مولانا ابولکلام آزاد کو تحریک آزادی کے عظیم قلم کار قرار دیتے ہوئے ان کی صحافت کو تحریک آزادی کے لیے سنگ میل قرار دیا اوراردو صحافت کا تعارف پیش کیا۔ ماسٹر ساجد علی نے اردو صحافت 1857 کے عنوان پر اپنا پر مغز خیال پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1857میں جنگ آزادی میں سر فروشانہ کردار ادا کرتے ہوئے سب سے نمایاں اور جلی نام اردو اخبار کا ہے جسے مولوی باقر نے جاری کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دہلی اخبار کو تحریک آزادی میں اس لئے بھی اہمیت دی جاتی ہے کہ انگریزوں نے مولوی باقر کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ مذکورہ سیمینار میں اردو کی بقا و ترقی اور تعلیم کے لیے انجمن ترقی اردو ہند کی ضلع کمیٹی پر فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق ڈاکٹر حافظ ابو عبید خاں پرنسپل رائزنگ پبلک اسکول خورجہ کو کمیٹی کا کنوینر منتخب کیا گیا اور طے پایا کہ انجمن کے سر پرست جناب بدرالاسلام صاحب کے مشورے کی بنیاد پر اردو کی خدمت کرنے والے حضرات پر مشتمل کمیٹی تشکیل کی جائے ۔ سیمینار کے اہم شرکاء میں حسرت علی شوہان ، قاضی عقیل احمد ، شکیل احمد نبانی ، خالد لطیف ، افضال احمد برنی ، لیاقت علی کلولی، عبدالقادر ایڈو کیٹ ، عقیل احمد آفریدی ایڈوکیٹ نوید راعین، ماسٹر ظفریاب خاں ، جمیل احمد انصاری، سردار انصاری، ماسٹر متین خاں، ساجد خاں ، مشیر احمد خاں ، عمیر احمد خاں کے نام قابل ذکر ہیں۔







اپنی رائے یہاں لکھیں