کساد بازاری اور مندی کی مار جھیل رہی پاور لوم صنعت کے مسائل حل کرنے کی مانگ
پدما نگر پاور لوم ویورس ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ کو بھیجا میمورنڈم
بھیونڈی ( ایس اے ):- پچھلے کئی برسوں سے دم توڑ رہی پاور لوم صنعت کو پٹری پر لانے کے لئے پدما نگر پاور ویورس ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی کو فوری طور پر پاور لوم صنعت کو راحت فراہم کرنے کے لئے سات مطالبات پر مبنی میمورنڈم ارسال کرتے ہوئے مالی پیکیج دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کو ارسال کئے گئے میمورنڈم میں بھیونڈی پدما نگر پاورلوم ویورس ایسوسی ایشن کے صدر پرسوتم ونگا اور سکریٹری ملیشام کونکا نے بتایا ہے کہ لاک ڈاؤن میں بھیونڈی میں چھ لاکھ سے زیادہ پاورلوم مشینیں مکمل طور پر بند ہوگئی تھی جس کی وجہ سے پاورلوم کارخانوں میں کام کرنے والے 90 فی صد مزدور مکمل طور پر بھکمری اور بے روزگاری سے پریشان ہوکر اپنے آبائی وطن کوچ کر گئے تھے ۔ بھیونڈی کے چھوٹے چھوٹے 70 فیصد پاورلوم کارخانہ مالکان ماسٹر ویوروں سے خام مال لے کر اجرت پر کام کرتے ہیں ۔ 6 مہینوں سے زائد وقفے سے پاورلوم انڈسٹری بند ہونے کی وجہ سے تمام پاور لوم مالکان قرض میں ڈوب گئے ہیں ۔ پہلے سے مندی کی مار جھیل۔رہے پاور لوم کارخانہ مالکان پر بینک کے قرض بڑھ گئے اس لئے زوال پذیر پاور لوم انڈسٹری پر قابو پانے کے لئے لوم مالکان کا سود معاف کیا جائے ساتھ ہی پاور لوم مالکان کے 6 ماہ کا بجلی بل معاف کرنے کے ساتھ ہی کارخانے اور کاروبار شروع کرنے کے لئے مالی اعانت فراہم کی جائے ۔ پاورلوم کارخانوں میں استعمال ہونے والے سوت کی قیمت پورے مہینے کے لئے مستحکم ہونی چاہئے کیونکہ اگست 2020 میں ممبئی مارکیٹ میں 60 کاؤنٹ کا سوت 950 روپئے فی کلو تھا لیکن سوت کے ایجنٹوں نے من مانے طور پر سوت ( یارن ) کی قیمت میں سو روپے فی کلو کا اضافہ کردیا جس کی وجہ سے مئی ماہ میں کپڑے کی پیداوار میں لاگت بڑھ گئی ہے اور مہنگے کپڑوں کا بازار میں کوئی خریدار نہیں ہے ۔ اس کی وجہ سے پاورلوم مالکان لاگت سے کم نقصان پر اپنے کپڑے بیچنے پر مجبور ہیں ۔ ٹی یو ایف اسکیم کے تحت رپیئر اور آٹومیٹک لوم لگانے والے پاور لوم مالکان پر بینک کے قرض کے سود میں بتحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔جسے مرکزی حکومت کی اسکیم کے ذریعہ معاف کیا جائے ۔ بھیونڈی میں پاورلوم انڈسٹری کو سہولت کے لئے جلد اے جلد ٹیکسٹائل مارکیٹ اور یارن مارکیٹ بنائی جائے ۔ حکومت کی جانب سے 27 ہارس پاور تک پاورلوم کارخانہ کا بجلی بل پر سبسیڈی دی جاتی ہے ۔ جسے بڑھا کر 40 ہارس پاور تک والی مشینوں والے کارخانوں کے بجلی بل پر سبسڈی دی جائے ۔ بھیونڈی پاور لوم کارخانوں میں کام کرنے والے 80 فیصد کاریگر دیگر ریاستوں سے آتے ہیں جن کے پاس رہنے اوردیگر سہولیات کے لئے مناسب جگہ نہیں ہے۔ اس لئے پاورلوم ورکرز کو شہری سہولیات کی فراہمی کے لئے گھرکول یوجنا نافذ کی جائے ۔
