NCP Urdu News 9 July 25

ضمنی مطالبات کا فنڈ مرکزی معاونت یافتہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگا: اجیت پوار

ریاستی معیشت مالی نظم و ضبط کے ساتھ چل رہی ہے، قرض اور خزانے پر مالی بوجھ محدود دائرے میں

ممبئی: 9 جولائی 2025

نائب وزیر اعلیٰ و وزیر مالیات و منصوبہ بندی اجیت پوار نے ریاستی اسمبلی میں ضمنی مطالبات پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کا مالی نظم و ضبط سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے اور حکومت کی پالیسیوں کا مقصد صرف اخراجات کا توازن رکھنا نہیں بلکہ ریاست کی معیشت کو پائیدار، مضبوط اور ترقی یافتہ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضمنی مطالبات سے حاصل شدہ فنڈز کو پندرہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے تحت ملنے والی گرانٹس، مرکزی حکومت کی ترقیاتی اسکیموں میں ریاست کے حصہ اور بنیادی ڈھانچے جیسے سڑکیں، ریل، پل، میٹرو، اور زیرِ زمین راہداریوں پر خرچ کیا جائے گا، جس کے ذریعے ریاست کی مجموعی اثاثہ جات میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔

اجیت پوار نے ایوان کو یقین دلایا کہ ریاست کی معیشت مستحکم ہے اور حکومت نئے مالی وسائل تلاش کر کے آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کر رہی ہے۔ ریاستی معیشت کا نظم و نسق مکمل طور پر مالیاتی اصولوں اور شفافیت پر مبنی ہے، جس سے مہاراشٹر دیگر ریاستوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر مالی حالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی کمیشن کے اصولوں کے مطابق ریاست پر واجب الادا مجموعی قرض کا بوجھ اس کے مجموعی ریاستی پیداوار (GSDP) کا 25 فیصد سے کم ہونا چاہیے، جب کہ مہاراشٹر پر موجودہ تخمینے کے مطابق یہ بوجھ صرف 18.87 فیصد ہے، جو مقررہ حد سے خاصا کم ہے۔ اسی طرح مالی خسارہ بھی 3 فیصد کی حد میں ہونا چاہیے اور مہاراشٹر نے اسے 2.76 فیصد تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک کی صرف تین ریاستیں مہاراشٹر، گجرات اور اوڈیشہ ایسی ہیں جن کا قرض GSDP کے 20 فیصد سے کم ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نہ صرف نظم و ضبط سے مالی امور چلا رہی ہے بلکہ ریاستی وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اسکیموں اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ریاستی معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ بجٹ پالیسیز، مکمل مالی شفافیت اور پالیسی پر مبنی اخراجات کے ذریعے مہاراشٹر کی معیشت نہ صرف آج بلکہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے بھی تیار ہو رہی ہے۔ اجیت پوار نے ایوان میں بتایا کہ اگرچہ مانسون اجلاس میں مجموعی طور پر 57،509 کروڑ روپے کے ضمنی مطالبات پیش کیے گئے ہیں، لیکن ان سے ریاست پر اصل مالی بوجھ 40،645 کروڑ روپے کا ہی ہے۔ اس خالص بوجھ میں 19،184 کروڑ روپے لازمی سرکاری اخراجات کے لیے، 34،661 کروڑ روپے مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے لیے، اور 3،665 کروڑ روپے مرکزی حکومت کی امدادی اسکیموں میں ریاستی حصہ ادا کرنے کے لیے شامل ہیں۔ یہ تمام اخراجات نہ صرف ریاستی ترقی کے لیے ضروری ہیں بلکہ ان کا مالی نظم و ضبط سے براہِ راست تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ضمنی مطالبات میں کئی اہم مدات شامل ہیں جن کا مقصد ترقیاتی رفتار کو تیز کرنا اور مالی کفایت شعاری کو برقرار رکھنا ہے۔ ان میں پندرہویں مالیاتی کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ 11،043 کروڑ روپے کی گرانٹس، اسٹامپ ڈیوٹی سرچارج کی واپسی کے لیے 3،228 کروڑ روپے، ممبئی میٹرو منصوبے کے لیے زیرِ زمین تعمیری کاموں کے لیے ریاست کی جانب سے 2،241 کروڑ روپے بطور ثانوی قرض، کوآپریٹو شوگر ملوں کو ورکنگ کیپیٹل فراہم کرنے کے لیے 2،183 کروڑ روپے بطور مارجل منی قرض، اور مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں کو سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 50 سال کی مدت کے لیے بغیر سود کے دی گئی خصوصی امداد میں 2،150 کروڑ روپے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نبارڈ سے حاصل کردہ 2،097 کروڑ روپے کا قرض نامکمل آبپاشی منصوبے مکمل کرنے اور مکمل منصوبوں کی ترسیل میں بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جب کہ ناسک میں آئندہ منعقد ہونے والے کمبھ میلے کی تیاریوں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

اجیت پوار نے اس بات پر زور دیا کہ ان تمام اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، منظم منصوبہ بندی اور ترقیاتی ترجیحات میں بہترین توازن پیدا کیا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ ریاست کے عوام کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی معیشت ایک پائیدار بنیاد پر استوار کی جا رہی ہے جو صرف موجودہ دور کے لیے نہیں بلکہ آنے والے وقت کے مالیاتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔

NCP Urdu News 9 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading