3000 کروڑ کے ٹول گھوٹالے پر نانا پٹولے کی جانب سے استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک
نجی ٹھیکیدار کو غیر قانونی مدت میں توسیع، کابینہ کو گمراہ کرنے کا الزام، قصورواروں پر سخت کارروائی کا مطالبہ
ممبئی: 9 جولائی 2025
ممبئی کے داخلی راستوں پر واقع پانچ ٹول ناکوں پر ہلکی گاڑیوں اور سرکاری بس سروسز کو دی گئی ٹول چھوٹ کے سبب نجی ٹھیکیدار کو قواعد کے خلاف مدت میں توسیع دی گئی، جس کے نتیجے میں مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (MSRDC) کو تقریباً 3000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس سنگین الزام کے تحت کانگریس لیڈر اور رکن اسمبلی نانا پٹولے نے ریاست کے چیف سیکرٹری، پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (PWD) کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور MSRDC کے منیجنگ ڈائریکٹر کے خلاف مہاراشٹر اسمبلی میں استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک پیش کی ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ اگرچہ کابینہ کے فیصلے میں 910.92 کروڑ روپے کی نقصانات کی تلافی کا ذکر ہے، لیکن متعلقہ ٹھیکیدار نے اپنے مکتوب میں کسی بھی قسم کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔ اس کے باعث ریاستی کابینہ کو گمراہ کیا گیا اور نجی کمپنی کو غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچایا گیا، جو کہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ یہ کنٹریکٹ 19 نومبر 2026 کو ختم ہونے والا تھا، اس کے بعد حاصل ہونے والی ٹول آمدنی کو MSRDC خود بھی وصول کر سکتی تھی۔ لیکن اس بارے میں کوئی مطالعہ یا تجویز پیش نہیں کی گئی، جو اس بدعنوانی کی اصل جڑ ہے۔ نانا پٹولے نے متعلقہ افسران پر جان بوجھ کر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ حکومت اور نجی کمپنی کے درمیان گٹھ جوڑ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
پٹولے نے مزید بتایا کہ اس ضمن میں متعدد بار محکمہ تعمیرات عامہ سے تحریری طور پر معلومات طلب کی گئیں، لیکن کوئی بھی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ لہٰذا یہ نہ صرف ریاستی اسمبلی کی خودمختاری کی توہین ہے بلکہ عوامی نمائندوں کی بھی توہین ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے مہاراشٹر اسمبلی کے قاعدہ 271 کے تحت استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک اسپیکر کے سامنے پیش کی ہے۔ نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کے غیر شفاف طرز عمل اور نجی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے اس سنگین انکشاف کی فوری اور سخت تحقیقات کی جائیں اور قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔