روہت پوار کا الیکشن کمیشن پر شدید حملہ
ممبئی: این سی پی-ایس پی کے جنرل سیکریٹری اور رکن اسمبلی روہت پوار نے انوشکتی نگر اسمبلی حلقے کے انتخابی نتائج پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن کو براہِ راست ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہد احمد عوام کے دلوں کے اصل نمائندہ ہیں، لیکن ووٹر لسٹ میں سنگین خامیوں کے باعث ان کی شکست ہوئی۔ ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روہت پوار نے کہا کہ اگر کمیشن کو معلوم ہے کہ ووٹر لسٹ میں ڈپلیکیٹ نام موجود ہیں تو ان پر ’ڈبل اسٹار‘ لگانے کے بجائے ان کی مکمل فہرست عوام کے سامنے جاری کی جائے۔
روہت پوار نے تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ انوشکتی نگر حلقے میں ووٹرز کی مجموعی تعداد میں ۳۸۶۵ کا اضافہ ہوا، جبکہ ڈپلیکیٹ ووٹرز کی تعداد ۱۳۰۸ ہے۔ یعنی کل ۵۱۷۳ ووٹرز کی ایسی فہرست موجود ہے جو فہد احمد کی شکست کے مارجن سے ۳۳۷۸ زیادہ ہے۔ ان کے مطابق یہ فرق انتخابی نتائج کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑا کرتا ہے۔ روہت پوار نے کہا کہ ان ڈپلیکیٹ ووٹروں میں صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو اور اتر بھارتی ووٹر بھی شامل ہیں، لہٰذا یہ کسی مذہبی یا لسانی بنیاد پر کی گئی شکایت نہیں بلکہ انتخابی شفافیت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس مکمل معلومات موجود ہے اس کے باوجود وہ کارروائی نہیں کر رہا۔ کمیشن نے کہا تھا کہ ڈپلیکیٹ ووٹروں کو ڈبل اسٹار لگا دیں گے، لیکن اگر یہ ووٹر آپ کی معلومات میں ہیں تو ان کی فہرست عوامی طور پر کیوں جاری نہیں کی جا رہی؟
روہت پوار نے الیکشن کمیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ دو سے تین دنوں کے اندر ڈپلیکیٹ ووٹروں کی فہرست جاری کریں، ورنہ صاف ووٹر لسٹ کے بغیر صاف الیکشن ممکن نہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں ۴۸ لاکھ نئے ووٹروں کا اضافہ ہونا بھی انتخابی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد کمیشن کی مشینری اچانک سرگرم ہوئی اور اسی جلد بازی نے بڑے پیمانے پر گڑبڑ پیدا کی۔ روہت پوار نے آشیش شیلار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شیلار اگرچہ ویبھیشن ہیں پھر بھی انہوں نے سچ بات کہی ہے۔ شیلار نے کرجت-جامکھیڑ حلقے میں ۱۴ ہزار ڈپلیکیٹ ووٹروں کے ثبوت پیش کیے ہیں۔ اسی طرح شِرور حلقے میں ۱۱۳۳ ڈپلیکیٹ ووٹرز اور ۱۵۷۸ مِسنگ نوٹِس پائے گئے ہیں، جب کہ چِنچوڑ حلقے میں ۵۴۶۶۰ بیرونی ووٹروں کی غیر قانونی منتقلی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ روہت پوار نے الزام لگایا کہ پڑوسی حلقوں سے ووٹرز لا کر ووٹنگ کروائی گئی۔
روہت پوار نے دیوانگ دوے پر بھی سنگین الزام عائد کیا کہ وہ بی جے پی کو معلومات فراہم کر رہے ہیں اور پورے انتخابی ہیر پھیر کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ویسا ہی آشیش شیلار پر نہیں ہونا چاہیے، اگر ایسا ہوا تو ہم احتجاج کریں گے۔ روہت پوار نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ڈپلیکیٹ ووٹروں کی شفاف فہرست فوری طور پر جاری کی جائے، ورنہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل سے اٹھ جائے گا۔
NCP-SP Urdu News 4 Nov. 25.docx
